حدیث نمبر: 10352
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . أَوْ قَالَ : رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا بِعَقْرَبٍ ، فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا . قَالَ : فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : فَصَفُّوا لَهُ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَأَى الْوَافِدُ ، وَانْقَطَعَ الْوَالِدُ ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي خِدْمَةٌ ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . ¤ قَالَ : " وَمَنْ وَافِدُكِ ؟ " . قَالَتْ : عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ : " الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ رَسُولِهِ " . قَالَتْ : فَمَنَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ - تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ - قَالَ : سَلِيهِ حِمْلَانًا ، فَسَأَلَتْهُ ، فَأَمَرَ لَهَا . [ فَقَالَتْ : فَأَتَتْنِي ] فَقَالَتْ : لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا ، قَالَتْ : ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ - أَوْ صَبِيٌّ - فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مَلِكَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ . فَقَالَ لَهُ : " يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، مَا أَفَرَّكَ ؟ أَنْ تَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ ؟ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ " . فَأَسْلَمْتُ ، فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ . وَقَالَ : " إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ ، وَإِنَّ الضَّالِّينَ النَّصَارَى " . ¤ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ فَلَكُمْ أَنْ تَرْضَخُوا مِنَ الْفَضْلِ ، أَرْضَخَ امْرِؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ ، بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ " . قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ : " بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ . وَأَنَّ أَحَدَكُمْ لَاقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ : [ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيًرا ] ؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا [ فَمَا ] يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ; فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ ، إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَاقَةَ ، لَيَنْصُرَنَّكُمُ اللَّهُ ، أَوْ لَيُعْطِيَنَّكُمُ اللَّهُ ، أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ وَيَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينِهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمَادِ بْنِ حُبَيْشٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ لِعَدِيٍّ حَدِيثٌ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا فِي الْمَنِّ عَلَى الْأَسِيرِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ لوگ آئے میں اس وقت عقرب میں موجود تھا ان لوگوں نے میری پھوپھی اور کچھ دوسرے لوگوں کو پکڑ لیا جب وہ لوگ انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صورت حال بیان کی تو میری پھوپھی نے کہا: یا رسول اللہ ! وافد دور ہو گیا ہے ، اور والد لاتعلق ہو چکا ہے ، اور میں بوڑھی عورت ہوں میرا خدمت گار کوئی نہیں ہے آپ مجھ پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا وافد کون ہے اس نے جواب دیا عدی بن حاتم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا ہوا ہے ؟ اس خاتون نے کہا: آپ مجھ پر احسان کیجئے راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو ایک صاحب آپ کے پہلو میں موجود تھے جن کے بارے میں اس خاتون کا خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو یہ مشورہ دیا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے بھی کچھ مانگ لو اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری کے لئے دینے کی ہدایت کی ۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر وہ خاتون میرے پاس آئی ، تو اس نے کہا: میں نے ایک ایسا کام کیا ہے جو تمہارے باپ نے بھی نہیں کرنا تھا پھر اس خاتون نے کہا: تم رغبت رکھتے ہوئے یا زبردستی ان کے پاس چلے جاؤ کیونکہ فلاں صاحب ان کے پاس آئے تھے ، تو انہیں ان سے یہ یہ کچھ ملافلاں صاحب ان کے پاس آئے ، تو انہیں یہ یہ کچھ ملا راوی کہتے ہیں : تو میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون اور دو بچے یا شاید ایک بچہ موجود تھا پھر راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے قرب کا ذکر کیا راوی کہتے ہیں : تو مجھے یہ انداز ہو گیا کہ یہ کسری یا قیصر کے بادشاہوں کی طرح نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عدی بن حاتم ! تم اس بات سے کیوں بھاگ رہے ہو کہ تم یہ پڑھ لو لا الہ الا اللہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود بھی ہے تم یہ کہنے سے کیوں بھاگ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے کیا اللہ تعالیٰ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں نے اسلام قبول کر لیا میں نے آپ کے چہرے کو دیکھا کہ وہ اس وجہ سے خوش ہو گیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : جن لوگوں پر غضب کیا گیا ہے وہ یہودی ہیں جو لوگ گمراہ ہوئے ہیں وہ عیسائی ہیں پھر لوگوں نے آپ سے کچھ مانگا ، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : اما بعد ! اے لوگو ! تمہارے لئے مناسب یہ ہے کہ تم اضافی چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ دے دو کوئی شخص ایک صاع دیدے کوئی شخص صاع کا کچھ حصہ دیدے کوئی مٹھی دیدے کوئی مٹھی بھر کا کچھ حصہ دیدے شعبہ کہتے ہیں میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کوئی شخص ایک کھجور دیدے یا نصف کھجور دیدے تم میں ہر ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ، اور پھر وہ یہ فرمائے گا ، جو میں بیان کر رہا ہوں : کیا میں نے تمہیں سننے والا اور دیکھنے ولا نہیں بنایا تھا کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد نہیں دیے تھے ، تو تم نے کیا آگے بھیجا ہے ، تو وہ شخص اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف کا جائزہ لے گا اسے کوئی چیز ایسی نہیں ملے گی جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو جہنم سے بچا سکے تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو ، اور اگر یہ بھی نہیں ملتی تو نرم بات کے ذریعے ایسا کرو کیونکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں فاقہ کا شکار ہونے کا اندیشہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری ضرور مدد کرے گا ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں عطا کرے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور ایسی فتح نصیب کرے گا کہ ایک عورت حیرہ سے لے کر یثرب کے درمیان سفر کرے گی یا اس سے زیادہ کا سفر کرے گی اور اسے چوری کا اندیشہ نہیں ہو گا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح اور دیگر کتابوں میں اس راویت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباد بن حبیش کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث گزر چکی ہے ، جو اس روایت سے زیادہ واضح ہے ، جو قیدی پر احسان کرنے کے بارے میں ہے ، اور کتاب الجہاد میں گزری ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (99/17) اخرجه احمد فى المسند (378/4)»