مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ سَرِيَّةِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ باب: بکر بن وائل کی جنگی مہم
عَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَيْشَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ ، فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ ، وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ فَقَالَ لَهُمَا : " تَطَاوَعَا " . ¤ قَالَ : وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ ; لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ ، فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا ، وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدِ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَتَطَاوَعَ ، فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عامر شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات سلاسل کے لئے لشکر کو بھیجا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مہاجرین کا امیر مقرر کیا اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیہاتیوں کا امیر مقرر کیا آپ نے ان دونوں سے فرمایا تم دونوں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا راوی کہتے ہیں : ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ انہوں نے بکر قبیلے پر حملہ کرنا ہے ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے ، اور انہوں نے قضاعہ قبیلے پر حملہ کر دیا کیونکہ بکر قبیلے کے لوگ ان کے ننھیالی عزیز بنتے تھے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ چل کر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور بولے : کہ اللہ کے رسول نے آپ کو ہمارا امیر مقرر کیا ہے ، اور فلاں کے صاحبزادے نے صورت حال کو بگاڑ دیا ہے حالانکہ آپ کی موجودگی میں اس کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے ۔ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ایک دوسرے کی فرمانبرداری کریں تو میں اللہ کے رسول کی اطاعت کروں گا ، اگرچہ عمرو نے اس کی خلاف ورزی کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔