حدیث نمبر: 10323
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَأَتَوْا عَلَى وَادٍ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكُمْ بِوَادٍ مَلْعُونٍ ; فَأَسْرِعُوا " . فَرَكِبَ فَرَسَهُ فَدَفَعَ وَدَفَعَ النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنِ اعْتَجَنَ عَجِينَهُ ، أَوْ مَنْ كَانَ طَبَخَ قِدْرًا فَلْيَكُبَّهَا " . ثُمَّ سِرْنَا ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ لوگ ایک وادی میں پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم لوگ ایک ملعون وادی میں ہو ، تو تیزی سے چلو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے ، اور وہاں سے نکل گئے لوگ بھی وہاں سے نکل گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے وہاں آٹا گوندھا تھا یا جس نے ہنڈیا پکائی تھی تو وہ اس کو پھینک دے پھر ہم روانہ ہوئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج کے دن جو بھی شخص زندہ ہے ٹھیک ایک سو سال گزرنے کے بعد اگر کوئی ایسا شخص زندہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قدامہ بن صخر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10323
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1843)»