مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ باب: غزوہ طائف کا بیان
حدیث نمبر: 10306
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِصْنَ الطَّائِفِ ، تَدَلَّيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَكَرَةٍ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَدَلَّيْتَ ؟ " فَقُلْتُ : تَدَلَّيْتُ بِبَكَرَةٍ ، قَالَ : " أَنْتَ أَبُو بَكَرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الْمِنْهَالِ الْبَكْرَاوِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نیچے کیسے آئے ؟ میں نے عرض کی : میں ایک رسی کی مدد سے لٹک کے آیا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ابوبکرہ ہو ( یعنی رسی والے ہو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومنہال بکراوی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔