حدیث نمبر: 10257
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُثْمَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " ائْتِنِي بِمِفْتَاحِ الْكَعْبَةِ " . فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ ، وَيَقُولُ : " مَا يَحْبِسُهُ ؟ " . فَسَعَى إِلَيْهِ رَجُلٌ وَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عِنْدَهَا الْمِفْتَاحُ - حَسِبَتْ أَنَّهُ قَالَ : أُمُّ عُثْمَانَ - تَقُولُ : إِنْ أَخَذَهُ مِنْكُمْ لَمْ يُعْطِيكُمُوهُ أَبَدًا ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا عُثْمَانُ حَتَّى أَعْطَتْهُ الْمِفْتَاحَ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَتَحَ الْبَابَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَجَلَسَ عِنْدَ السِّقَايَةِ ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَئِنْ كُنَّا أُوتِينَا النُّبُوَّةَ وَأُعْطِينَا السِّقَايَةَ وَأُعْطِينَا الْحِجَابَةَ ، مَا قَوْمٌ بِأَعْظَمَ نَصِيبًا مِنَّا . فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ مَقَالَتَهُ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْمِفْتَاحَ وَقَالَ : " غَيِّبُوهُ " . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عُيَيْنَةَ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ يَوْمَئِذٍ حِينَ كَلَّمَهُ فِي الْمِفْتَاحِ : " إِنَّمَا أُعْطِيكُمْ مَا تُرْزَءُونَ ، وَلَمْ أُعْطِكُمْ مَا تَرْزُءُونَ " . يَقُولُ : أُعْطِيكُمُ السِّقَايَةَ لِأَنَّكُمْ تَغْرَمُونَ فِيهَا ، وَلَمْ أُعْطِكُمُ الْبَيْتَ . أَيْ إِنَّهُمْ يَأْخُذُونَ مِنْ هَدِيَّتِهِ ، هَذَا قَوْلُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

زہری بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا میرے پاس خانہ کعبہ کی چابی لے کے آؤ انہیں آنے میں تاخیر ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ان کا انتظار کر رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پسینے کے قطرے نکل آئے جو موتیوں کی مانند تھے آپ نے فرمایا : وہ کیوں نہیں آ رہا ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ جس خاتون کے پاس چابی تھی وہ انہیں چابی نہیں دے رہی تھی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ خاتون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر انہوں نے تم سے یہ چابی لے لی تو پھر وہ تمہیں کبھی بھی یہ نہیں دیں گے ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس خاتون سے یہ کہہ رہے تھے کہ چابی دے دیں یہاں تک کہ اس خاتون نے انہیں وہ چابی دے دی وہ اس چابی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے آپ سقایہ کے پاس تشریف فرما ہوئے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں نبوت عطا کی گئی ہمیں سقایہ کا منصب دیا گیا ہمیں حجابہ کا منصب دیا گیا تو کوئی بھی قوم ہم سے زیادہ حصے والی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ بات گویا ناگوار گزری آپ نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور چابی ان کو دیتے ہوئے فرمایا اسے سنبھال کے رکھو ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : میں نے ابن عیینہ کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بتایا : ابن جریج نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ ابن ابوملیکہ نے یہ بات بیان کی ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چابی کے بارے میں بات چیت کی تھی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا کہ میں تمہیں وہ چیز دوں گا ، جس میں تمہیں مشقت کا سامنا ہو وہ چیز نہیں دوں گا جس کا تم ہدیہ وصول کرو ، راوی کہتے ہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے ذریعے مراد یہ ہے : میں نے تمہیں ” سقایہ “ دیا ہے کیونکہ تم اس حوالے سے مشقت کا شکار ہوتے ہو میں نے تمہیں بیت اللہ کی چابی نہیں دی اس لئے کہ لوگ اس حوالے سے تحفے قبول کرتے ہیں یہ بیان امام عبدالرزاق کا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10257
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8395)»