مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَكَانَ جَائِعًا فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْهَارًا لِي قَدْ لَجَأُوا إِلَيَّ ، وَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْلَمَ بِهِمْ فَيَقْتُلَهُمْ ، فَاجْعَلْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أُمِّ هَانِئٍ آمِنًا حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَ اللَّهِ . ¤ فَأَمَّنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ " . ¤ وَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ نَأْكُلُهُ ؟ " فَقَالَتْ : لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ ، وَإِنِّي لَأَسْتَحِي أَنْ أُقَدِّمَهَا إِلَيْكَ . فَقَالَ : " هَلُمِّي بِهِنَّ " . فَكَسَّرَهُنَّ فِي مَاءٍ وَجَاءَتْ بِمِلْحٍ . فَقَالَ : " هَلْ مِنْ إِدَامٍ ؟ " . فَقَالَتْ : مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ . فَقَالَ : " هَلُمِّيهِ فَصُبِّيهِ عَلَى الطَّعَامِ " . ¤ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، يَا أُمَّ هَانِئٍ لَا يُقْفَرُ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک محسوس ہو رہی تھی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ سسرالی عزیز ہیں ، جنہوں نے میرے ہاں پناہ لی ہے ، اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر انہیں میرے عزیزوں کے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ انہیں قتل کر دیں گے ، تو آپ یہ چیز مقرر کر دیں کہ جو شخص اُم ہانی کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون شمار ہو گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ کا کلام سنیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو امان دے دی آپ نے ارشاد فرمایا : ام ہانی نے جسے پناہ دی ہو اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ۔ جسے ہم کھا لیں ؟ انہوں نے عرض کی : میرے پاس تو صرف ایک روٹی کا خشک ٹکڑا ہے ، اور اسے آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اس کو توڑ کر پانی میں ڈالا پھر وہ نمک لے کے آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کوئی سالن ہے ؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ نہیں ہے صرف تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ اور اسے کھانے پر ڈال دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سرکہ اچھا سالن ہے اے اُم ہانی اس گھر کے لوگ سالن کے بغیر نہیں ہوتے جس میں سرکہ موجود ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔