مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْفَتْحِ باب: غزوہ فتح کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ - وَكَانَ يُسَمَّى الصَّرْمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَمٍ : الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُفَيْلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " . ¤ فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحَّاءٌ ، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ . وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمَقِيسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا ، وَأَقْبَلَتِ الْأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا قَبْلُ بِوَرَقَتَيْنِ فِي هَذَا الْمَعْنَى . ¤سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ جن کا نام ” صرم “ ہے وہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار افراد ایسے ہیں ، جنہیں میں حل میں یا حرم میں امان نہیں دوں گا حویرث بن نفیل ، مقیس بن صبابہ ہلال بن خطل اور عبداللہ بن سعد بن ابوسرح جہاں تک حویرث کا تعلق ہے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے ، تو اس کے چچا زاد نے اسے قتل کر دیا جہاں تک حلال بن خطل کا تعلق ہے ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا جہاں تک عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کا تعلق ہے ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے امان حاصل کر لی کیونکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا اسی طرح مقیس کی دو کنیزیں تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شاعری گایا کرتی تھیں ان میں سے ایک قتل ہو گئی اور دوسری آ گئی اور اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے دو ورق پہلے اس موضوع سے متعلق اس نوعیت کی احادیث اس سے پہلے گزر چکی ہیں ۔