حدیث نمبر: 10240
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ فِي الْأَرَاكِ " . فَدَخَلْنَا فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَحْوُونَهُ بِجُفُونِ سُيُوفِهِمْ حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، قَدْ جِئْتُكُمْ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ; فَأَسْلِمُوا تَسْلَمُوا " . ¤ وَكَانَ الْعَبَّاسُ لَهُ صَدِيقًا ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ يُحِبُّ الصَّوْتَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنَادِيًا يُنَادِي بِمَكَّةَ : " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ ثُمَّ بَعَثَ مَعَهُ الْعَبَّاسَ حَتَّى جَلَسَا عَلَى عَقَبَةِ الثَّنِيَّةِ فَأَقْبَلَتْ بَنُو سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذِهِ بَنُو سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : وَمَا أَنَا وَسُلَيْمٌ . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْمُهَاجِرِينَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَنْصَارِ . ¤ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَقَدْ رَأَيْتُ مُلْكَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُلْكِ ابْنِ أَخِيكَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

ابولیلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ابوسفیان ، پیلو کے درختوں میں ہے ، ہم اس میں داخل ہوئے ، اور ہم نے اسے پکڑ لیا مسلمان اسے اپنی تلواروں کے درمیان لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت لے کے آ رہا ہوں تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کے دوست تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان نمایاں ہونے کو پسند کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ مکہ میں یہ اعلان کرے کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص ہتھیار ڈال دے گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بھیجا یہ دونوں حضرات گھاٹی کے پاس بیٹھ گئے بنو سلمہ آئے ، تو ابوسفیان نے کہا: اے عباس یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا : یہ بنو سلیم ہیں اس نے کہا: میرا سلیم کے ساتھ کیا واسطہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مہاجرین کے درمیان تشریف لائے ، تو اس نے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں انہوں نے بتایا : یہ علی بن ابوطالب مہاجرین کے درمیان موجود ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے درمیان تشریف لائے ، تو اس نے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں انہوں نے بتایا : یہ سرخ موت ہے یہ اللہ کے رسول ہیں جو انصار کے درمیان ہیں ابوسفیان نے کہا: میں نے کسری اور قیصر کی بادشاہی دیکھی ہے لیکن میں نے تمہارے بھتیجے جیسی بادشاہی نہیں دیکھی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ نبوت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرب بن حسن طحان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6419)»