حدیث نمبر: 10189
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُمْرَةَ الْقَضَاءِ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ : " اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ ، وَاسْعَوْا فِي الطَّوَافِ " لِيَرَى الْمُشْرِكِينَ جَلْدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ لِكُلِّ مَا اسْتَطَاعَ ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَرْتَجِزُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ ، يَقُولُ . ¤ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ¤ فِي صُحُفٍ تُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ¤ كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ¤ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْظًا وَحَنَقًا وَنَفَاسَةً وَحَسَدًا ، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُسُكَهُ وَأَقَامَ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابن شہاب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء کا حکم دیا ، تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اپنے کندھوں سے کپڑا ہٹا لو ، اور طواف کرتے ہوئے دوڑ کے چلو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ مشرکین کو ان لوگوں کی قوت اور طاقت دکھائیں اور جہاں تک ہو سکے آپ ان کے لئے تدبیر کریں ، تو اہل مکہ کے مرد ، خواتین اور بچے اکٹھے ہوئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو دیکھنے لگے ، جب یہ لوگ بیت اللہ کا طوف کر رہے تھے ، اس وقت سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تلوار گلے میں لٹکا کر یہ رجز پڑھ رہے تھے : ” اے کفار کی اولاد ! ان ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا راستہ چھوڑ دو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اس ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے رسول ہیں ، رحمن نے اپنے نازل کردہ کلام میں یہ بات نازل کی ہے جو ( رحمن کا کلام ) صحیفوں میں ہے ، جو اس کے رسول پر تلاوت کیا گیا ، تو آج ہم اس ( قرآن ) کے حکم کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائیں گے ، جس طرح پہلے ہم نے اس کے نزول کی بنیاد پر تم پر ضرب لگائی تھی ، ایسی ضرب جو سر کو تن سے جدا کر دے گی ، اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی “ ۔ مشرکین کے کچھ معززین وہاں موجود نہیں تھے ، وہ اپنے غصے ، حسد ، خود پسندی کی وجہ سے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں ، وہ مکہ کے نواحی علاقوں کی طرف چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مناسک ادا کیے اور تین دن وہاں مقیم رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح