حدیث نمبر: 10126
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ; أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا عَامِرُ ، غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَثَابِتٌ قَائِمٌ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ ، لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي ، فَقَالَ ثَابِتٌ : أَمَا وَاللَّهِ ، يَا عَامِرُ لَئِنْ عَرَضْتَ نَفْسَكَ لِلِسَانِي لَتَكْرَهَنَّ حَيَاتِي ، فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عَطَسَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَامِرٌ : شَمَّتَ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكَنِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ " ، قَالَ : وَمَحْلُوفِهِ لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكْفِينِيكَ اللَّهُ وَابْنَا قَيْلَةَ " ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِرٌ فَجَمَعَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ثَلَاثَةُ أَبْطُنٍ ، هُمُ الَّذِينَ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ ، وَرِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا سَمِعَ أَنَّ عَامِرًا جَمَعَ لَهُ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشَرَةً فِيهِمْ : عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، وَسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَأَمِيرُهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو ، فَمَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى هَجَمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَهُمْ كُلَّهُمْ ، فَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ كَانَ فِي الرِّكَابِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قَتَلُوا ، خَيْرَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " قَدْ قُتِلَ أَصْحَابُكُمْ مِنْ وَرَائِكُمْ " فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اكْفِنِي عَامِرًا " فَكَفَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ بِفِنَائِهِ ، فَرَمَاهُ اللَّهُ بِالذَّبْحَةِ فِي حَلْقِهِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ سَلُولٍ ، فَأَقْبَلَ يَنْزُو وَهُوَ يَقُولُ : يَا آلَ عَامِرٍ غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ تَرْغَبُ أَنْ تَمُوتَ فِي بَيْتِهَا ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ فِي بَيْتِهَا ، وَكَانَ أَرْبَدُ بْنُ قَيْسٍ أَصَابَتْهُ صَاعِقَةٌ فَاحْتَرَقَ فَمَاتَ ، فَرَجَعَ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عامر بن طفیل ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرتے ہوئے تکرار کی ، تو اس کی آواز بلند ہو گئی ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنی تلوار پکڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے عامر ! تم اپنی آواز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں پست رکھو ! اُس نے کہا: تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے انہیں عزت عطا کی ہے ، اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناپسند نہ ہوتی ، تو میں نے اس تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، عامر جو بیٹھا ہوا تھا ، اُس نے ان کی طرف دیکھا ، ثابت کھڑے ہوئے تھے اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اے ثابت ! اگر تم اپنے آپ کو میرے لئے پیش کر دیتے ، تو تم نے مجھ سے ضرور منہ موڑ لینا تھا ، تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اے عامر ! اگر تم اپنے آپ کو میری زبان کے لئے پیش کرتے ، تو تم نے میری زندگی کو ناپسند کرنا تھا ، اسی دوران عامر بن طفیل کے بھتیجے کو چھینک آ گئی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے چھینک کا جواب دیا ، پھر عامر بن طفیل کو چھینک آئی ، تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے جواب نہیں دیا ، عامر نے کہا: آپ نے اس لڑکے کو جواب دیا ہے اور مجھے نہیں دیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی تھی ، اس نے کہا: پھر اسی کی ذات کی قسم ہے ، میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیدل لوگوں کو جمع کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے مقابلے میں اللہ تعالیٰ میری کفایت کر لے گا ، اور قیلہ کے دو بیٹے کفایت کریں گے ، پھر عامر وہاں سے نکلا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا ، تو بنوسلیم کی تین شاخوں کے لوگ اس کے ساتھ مل گئے ، یہ وہ لوگ تھے ، جن کے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں دعائے ضرر کرتے رہے تھے ، آپ یہ کہتے تھے : اے اللہ ! لحیان ، رعل اور ذکوان قبیلے پر لعنت فرما ! اور عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے ، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن تک یہ دعا کرتے رہے ، جب آپ نے یہ بات سنی کہ عامر نے آپ کے خلاف لوگوں کو جمع کر لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس افراد کو بھیجا ، جن میں ایک سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ تھے ، ان سب کا تعلق انصار سے تھا ، اور ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ، یہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے بئر معونہ کے پاس پڑاؤ کیا ، تو دشمن آگے آیا اور ان لوگوں کو گھیر لیا اور ان سب کو قتل کر دیا ، ان سب میں سے صرف سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ ان سے بچ پائے ، وہ سواروں کے درمیان تھے ( یا سواریوں کے درمیان تھے ) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اُسی دن یہ وحی کی ، جس دن آپ کے اصحاب میں سے بہترین لوگ شہید ہو گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں ، تو تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن طفیل کے خلاف دعائے ضرر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! عامر کے حوالے سے میرے لئے کفایت کر جا ! تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے آپ کی کفایت کی ، وہ شخص آیا اپنے صحن میں اترا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حلق میں ” ذبحہ “ ( نامی پھوڑے ) کی بیماری لاحق کر دی ، وہ سلول سے تعلق رکھنے والی عورت کے گھر میں تھا ، اس کے زخم سے خون بہنے لگا ، اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے آل عامر ! اونٹ کے غدہ کی طرح غدہ ہے ، جو سلولیہ کے گھر میں ہے ، وہ اس بات سے منہ موڑنا چاہ رہا تھا کہ وہ اس عورت کے گھر میں مرے ، لیکن وہ مسلسل وہیں رہا ، یہاں تک کہ اُس عورت کے گھر میں مر گیا ، اربد بن قیس نامی شخص پر آسمانی بجلی گری اور وہ جل گیا اور مر گیا ، تو ان لوگوں کے ساتھ جتنے بھی لوگ تھے ، وہ سب واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5724)»