مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ باب: اہل بدر کی فضیلت
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ مَوْلُودًا وُلِدَ فِي فِقْهِ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ أَهْلِ الدِّينِ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ ، وَيَجْتَنِبُ مَعَاصِيَ اللَّهِ كُلَّهَا إِلَى أَنْ يُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، أَوْ يُرَدَّ إِلَى أَنْ [ لَا ] يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا ، لَمْ يَبْلُغْ أَحَدُكُمْ هَذِهِ اللَّيْلَةَ " . وَقَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ شَهِدُوا بَدْرًا لَفُضَلَاءُ عَلَى مَنْ تَخَلَّفَ مِنْهُمْ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِقْلَاصٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر کوئی بچہ ایسی حالت میں پیدا ہو کہ جس طرح دیندار افراد میں سے کسی فرد کی چالیس سال کی عمر میں سمجھ بوجھ ہوتی ہے ، اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کام کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہر کام سے اجتناب کرتا رہے ، یہاں تک کہ وہ سٹھیا جانے والی عمر تک پہنچ جائے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہاں تک کہ وہ اس عمر تک پہنچ جائے کہ جب علم ہونے کے بعد کسی چیز کا علم نہیں رہتا ، تو بھی وہ فرد ( اتنی عبادت کے باوجود ) تم میں سے کسی ایک کے اس رات کے اجر و ثواب تک ) نہیں پہنچ پائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، وہ ان فرشتوں پر فضیلت رکھتے ہیں ، جو اس میں شریک نہیں ہوئے ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے اہل بدر کی فضیلت کے بارے میں ، ایک اور حدیث بھی منقول ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مقلاص ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔