مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيهِ وَفِي أَدَبِ الْخَلَاءِ . باب: اس بارے میں اور قضائے حاجت کے آداب کے بارے میں بیان
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَ قَوْمَهُ وَعَلَّمَهُمْ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَوْمًا وَهُوَ كَأَنَّهُ يَلْعَبُ : مَا بَقِيَ لِسُرَاقَةَ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ التَّغَوُّطُ . قَالَ سُرَاقَةُ : إِذَا ذَهَبْتُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَاتَّقُوا الْمَجَالِسَ عَلَى الظِّلِّ وَالطَّرَائِقِ ، خُذُوا النَّبَلَ ، وَاسْتَنْشِبُوا عَلَى سُوقِكُمْ ، وَاسْتَجْمِرُوا ، وَأَوْتِرُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ( اپنے علاقے میں واپس ) تشریف لائے ، تو انہوں نے اپنی قوم کو باتیں بتائیں ، اور انہیں ( شرعی احکام کی ) تعلیم دی ، ایک دن ایک شخص نے اُن کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا: سراقہ کا اب بس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہیں یہ تعلیم دے کہ پاخانہ کیسے کرنا ہے ؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ ، تو سائے ، یا راستے میں بیٹھنے سے بچو ، پھر استعمال کرو اور طاق تعداد میں استعمال کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔