عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ بَنِي عَابِدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرُدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ ، أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفْلِ . ¤ قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يَسْأَلُهُ . قَالَ : فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ . ¤سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، مجھے بنو عابد بن مرزبان کی تلوار ملی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ لوگ اپنے پاس موجود چیزیں لوٹا دیں ( یعنی مال غنیمت میں جمع کروا دیں ) تو میں آیا اور میں نے اس تلوار کو مال غنیمت میں شامل کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز مانگی جاتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ” نہ “ نہیں کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ارقم بن ابوارقم مخزومی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو پہچان لیا ، انہوں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگ لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں دیدی ۔