مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنِ التَّخَلِّي فِيهِ . باب: کس جگہ قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : أَفْتَيْتَنَا فِي كُلِّ شَيْءٍ ، يُوشِكُ أَنْ تُفْتِيَنَا فِي الْخِرَاءِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَلَّ سَخِيمَتَهُ عَلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ : " اتَّقَوُا اللَّعَّانِينَ " - وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ہر چیز کے بارے میں ہمیں حکم بیان کر دیا ہے ، قریب ہے کہ آپ ہمیں قضائے حاجت کے بارے میں بھی کوئی حکم بیان کر دیں گے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے کسی راستے میں قضائے حاجت کرتا ہے ، اُس پر ، اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہیں : ” لعنت کا باعث بننے والے کاموں سے بچو ! “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو انصاری ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔