حدیث نمبر: 3311
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الجَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ , قَالَ : " أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ , لَحْمًا قَدْ شُوِيَ , فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ , ثُمَّ قُمْنَا فُصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا ، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے ، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3311
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون مسح الأيدي , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن لھيعة اختلط و لم يحدث بھذا اللفظ قبل اختلاطه, والحديث السابق (الأصل: 3300) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5232 ، ومصباح الزجاجة : 1139 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/191 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں ، «فمسحنا أيدينا بالحصباء» کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : صحیح أبی دادو : 187 ) ، ( یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے : 3300 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3300

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔`
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔

(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔

(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔

(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3311 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3300 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مسجد میں کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔

(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3300 سے ماخوذ ہے۔