سنن ابن ماجه
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ باب: فرعہ اور عتیرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ ، وَبَرُّوا لِلَّهِ ، وَأَطْعِمُوا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِهِ ؟ ، قَالَ : " فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ ، حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ ، فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ أُرَهُ ، قَالَ عَلَى : ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ " .
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا : اللہ کے رسول ! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں «عتیرہ» کرتے تھے ، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو ، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو ، اور ( غریبوں کو ) کھانا کھلاؤ “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں «فرع» کرتے تھے ، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر «سائمہ» ( چرنے والے جانور ) میں «فرع» ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق ( یعنی جوان ) ہو جائے تو اسے ذبح کرو ، اور اس کا گوشت ( میرا خیال ہے انہوں نے کہا ) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]