باب: محرم کو اپنا سر دھونے کی رخصت ہے
حدیث 2650–2650
باب: محرم بغیر بال کاٹے یا منڈوائے سینگی لگوا سکتا ہے
حدیث 2651–2651
باب: محرم حالت احرام میں غیر خوشبودار تیل استعمال کرسکتا ہے
حدیث 2652–2653
باب: جب محرم کی آںکھیں دکھتی ہوں تو وہ ایلوے کی پٹی کرسکتا ہے
حدیث 2654–2654
باب: محرم مسواک کرسکتا ہے
حدیث 2655–2655
باب: محرم اپنے سرپر لیپ کرسکتا ہے تاکہ بڑی چھوٹی جوئیں اسے تکیف نہ دیں
حدیث 2656–2656
باب: محرم کو سر میں سینگی لگوانے کی رخصت ہے اگرچہ اس کے بال کندھوں تک یا کانوں کے برابر ہوں ۔ اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفصل روایت کا بیان
حدیث 2657–2657
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں کسی تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی
حدیث 2658–2658
باب: محرم اپنے قدم کے اوپر سینگی لگوا سکتا ہے ۔
حدیث 2659–2659
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تکلیف کی بنا پر حالت احرام میں اپنے قدم مبارک پر سینگی لگوائی تھی ، وہ تکلیف آپ کی کمر یا سرین میں تھی ، قدم میں نہیں تھی
حدیث 2660–2661
باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان کہ محرم جب قربانی کا جانور ساتھ لیکر جائے تو اس پر سواری کرسکتا ہے
حدیث 2662–2662
باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث 2663–2663
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی عدم دستیابی کی صورت میں
حدیث 2664–2664
باب: ان جانوروں کا بیان جنہیں محرم حالت احرام میں قتل کرسکتا ہے
حدیث 2665–2667
باب: محرم سانپ کو مار سکتا ہے اگرچہ مارنے والا حرم کی حدود میں ہو
حدیث 2668–2668
باب: گزشتہ مجمل روایات جن میں محرم کے لئے بعض جانوروں کا قتل کرنے کی اجازت کا بیان ہے ۔ اس روایت کی تفصیل بیان کرنے والی روایت کا بیان ۔
حدیث 2669–2669
باب: محرم کے کم علمی اور جہالت کی بنا پر خوشبو لگا لینے اور ممنوع قسم کا لباس پہن لینے کا بیان
حدیث 2670–2670
باب: خوشبو کے بارے میں گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث 2671–2671
باب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محرم کو اپنے جسم پر لگی خوشبو دھونے کا حُکم دیا تھا کیونکہ اس خوشبو میں زعفران ملا ہوا تھا اور زعفرانی خوشبو تو غیر محرم کے لئے بھی حرام ہے چہ جائیکہ محرم اسے استعمال کرے ۔ اس کے لئے تو بالاولیٰ حرام ہے
حدیث 2672–2672
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم اور غیر محرم کو زعفرانی خو شبو لگانے سے منع کیا ہے
حدیث 2673–2674
باب: زعفرانی خوشبو کے ممنوع ہونے کی ایک اور دلیل کا بیان
حدیث 2675–2675
باب: ان علماء کے قول کے برخلاف بیان جو کہتے ہیں کہ جس محرم نے جبہ پہنا ہوا ہو اسے وہ جبہ پھاڑ کر اتارنا چاہیے اور سر کے اوپر سے اتارنا اس کے لئے جائز نہیں ہے
حدیث 0–0
باب: محرم جب بیمار ہو جائے یا اسے بڑی جوئیں اور چھوٹی جوئیں تکلیف دے رہی ہوں تو وہ سر کے بال منڈوا سکتا ہے
حدیث 2676–2676
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو سر منڈوا کر روزے رکھنے یا صدقہ کرنے یا قربانی کرنے کا حُکم
حدیث 2677–2677
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد « وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ----مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ » [ سورة البقرة :196 ] ” اور تم اپنے سروں کو نہ منڈواوَ کہ قربانی کا جانور اپنی قربان گاہ میں پہنچ جائے ، پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہوتو وہ روزے رکھ کر ، صدقہ دیکر یا قربانی کرکے فدیہ دے “ ” میں کلام مختصر ہے
حدیث 2678–2678
باب: محرم حالت احرام میں اپنے غلام کو سزا دے سکتا ہے جبکہ غلام نے مالک کا سامان ضائع کردیا ہو اور وہ اس پر سزا کا مستحق ہو
حدیث 2679–2679
باب: محرم حالت احرام میں رجزیہ اشعار اور دیگر اشعار پڑھ سکتا ہے
حدیث 2680–2680
باب: محرم چادر نہ ملنے پر شلوار اور جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہن سکتا ہے ۔
حدیث 2681–2681
باب: جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کے بارے میں گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث 2682–2683
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو وہ موزے پہننے کی اجازت دی ہے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں ایسے موزے پہننے کی اجازت نہیں دی جو پنڈلیوں تک ہوں ۔
حدیث 2684–2685
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مردوں کو موزے کاٹ کر پہننے کی رخصت دی ہے
حدیث 2686–2686
باب: محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ کسی جگہ ٹھرا ہوا ہو اور سفر نہ کر رہا ہو ۔
حدیث 2687–2687
باب: محرم سایہ حاصل کر سکتا ہے اگرچہ وہ سواری پر سوار ہو اور نیچے اترا ہوا نہ ہو
حدیث 2688–2688
باب: محرم حالت احرام میں اپنی چادریں تبدیل کرسکتا ہے اور اسے رنگین کپڑا پہننے کی رخصت ہے بشرطیکہ اسے گیرو سے رنگا گیا ہو
حدیث 2689–2689
باب: ایک مجمل غیر روایت کے ساتھ محرمہ عورت کا مردوں سے اپنا چہرہ ڈھانپنے کا بیان
حدیث 2690–2690
باب: گزشتہ باب میں مذکورہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث 2691–2691
باب: جب آدمی رات کے وقت ذی طوی مقام پر پہنچے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے مکّہ مکرّمہ کے قریب رات گزارنا اور دن کے وقت صبح مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونا مستحب ہے
حدیث 2692–2692
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بالائی گھاٹی کی طرف سے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونا مستحب ہے ۔
حدیث 2693–2693
باب: مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مستحب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا تھا
حدیث 2694–2695
باب: حج کے موقع پر حاجی حرم میں داخل ہوتے وقت تلبیہ پکارنا بند کردے یہاں تک کہ صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہوجائے
حدیث 2696–2698
باب: مکّہ مکرّمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف شروع کرنے سے پہلے نیا وضو کرنا مستحب ہے
حدیث 2699–2699
باب بنی شیبہ سے مسجد حرام میں داخل ہونا مستحب ہے
حدیث 2700–2700
باب: بیت اللہ کا طواف کرتے وقت کپڑے پہن کر زیب و زینت اختیار کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث 2701–2702
باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ بیت اللہ شریف کو دیکھنے پر ہاتھ اُٹھانے کی کراہت کا بیان
حدیث 2703–2704
باب: گزشتہ مجمل حدیث کی مفسر روایت کا بیان
حدیث 2705–2705
باب: مسجد میں داخل ہونے کی دعا
حدیث 2706–2706
باب: حج و عمرہ یا ان میں سے کسی ایک کے طواف قدوم میں چادر کو دائیں بازو کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنے کا بیان
حدیث 2707–2707
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی عمل کسی خالص علت کے پیش آںے پر سرانجام دیتے ہیں ،
حدیث 2708–2708
باب: طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کا استلام کرنے کا بیان
حدیث 2709–2710
باب: مسلمانوں کو تکلیف دیئے بغیر حجر اسود کو بوسہ دینا ممکن ہوتو اسے بوسہ دینا چاہیے
حدیث 2711–2711
باب: حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے رونے کا بیان ۔ میرا دل محمد بن عون کے بارے میں مطمئن نہیں ہے ۔
حدیث 2712–2713
باب: دیگر مسلمانوں کو تکلیف دیے بغیر اگر طواف کرنے والے کو حجر اسود پر سجدہ کرنے کا موقع ملے تو اسے حجر اسود پر سجدہ کرنا چاہیے
حدیث 2714–2714
باب: اگر حجر اسود کو بوسہ دینا اور اس پر سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو حجر اسود کو ہاتھ سے چھو کر ہاتھ چوم لینا چاہیے
حدیث 2715–2715
باب: طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کی طرف منہ کرکے اس کا استلام کرتے وقت اللهُ أَكْبَرُ کہنے کا بیان
حدیث 2716–2716
باب: طواف کے پہلے تین چکّروں میں دلکی چال چلنا اور چار چکّروں میں عام چال چلنے کا بیان
حدیث 2717–2717
باب: بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرنے کا بیان
حدیث 2718–2718
باب: ابتداء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رمل کرنے کی علت کا بیان
حدیث 2719–2720
باب: رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان کی دعا کا بیان
حدیث 2721–2721
باب: ہر چکّر میں حجراسود پر پہنچ کر اللهُ أَكْبَرُ کہنے کا بیان
حدیث 2722–2722
باب: طواف کے ساتوں چکّروں میں حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے کا بیان
حدیث 2723–2723
باب: جب حجر اسود کا استلام کرنا ممکن نہ ہو تو طواف کے ہر چکّر کی ابتداء اور انتہا پر حجر اسود کی طرف اشارہ کرنا بھی کافی ہے
حدیث 2724–2724
باب: حجر اسود اور اس کے قریب والے رکن کا استلام کرنے کا بیان اور وہ دونوں رکن یمانی کہلاتے ہیں
حدیث 2725–2725
باب: اس علت کا بیان جس کی بنا پر ہمارے خیال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم کے قریبی دو ارکان کا استلام نہیں کرتے تھے
حدیث 2726–2726
باب: رکن یمانی کو بوسہ دیتے وقت اس پر رخسار رکھنے کا بیان
حدیث 2727–2727
باب: حجر اسود رکن یمان دونوں ارکان کے درمیان دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والے کو ملے ہوئے رزق میں قناعت عطا فرمائے ، اور اسے اس میں برکت عطا کرے اور اس کی ہر غیر حاضر چیز کا خیر و بھلائی کے ساتھ نگہبان بن جائے
حدیث 2728–2728
باب: حجر اسود اور رکن یمانی کی فضیلت اور ان دونوں کے استلام سے گناہوں کی بخشش کا بیان
حدیث 2729–2730
باب: حجر اسود اور مقام ابراہیم کی صفت اور اس بات کا بیان کہ یہ دونوں پتھر جنحجر اسود اور مقام ابراہیم کی صفت اور اس بات کا بیان کہ یہ دونوں پتھر جنّتی یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیںتی یا قوتوں میں سے دو یا قوت ہیں
حدیث 2731–2732
باب: حجر اسود کے سیاہ ہو جانے کی علت کا بیان
حدیث 2733–2733
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ حجر اسود مشرک انسانوں کے گناہوں سے سیاہ ہوا ہے ، مسلمانوں کے گناہوں سے نہیں
حدیث 2734–2734
باب: قیامت کی دن حجر اسود کی صفت کا بیان
حدیث 2735–2735
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ اس حدیث میں مذکور رکن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف حجر اسود ہے ، دوسرا کوئی رکن مراد نہیں ہے
حدیث 2736–2736
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ حجر اسود اس شخص کے حق میں گواہی دیگا جس نے اس کی گواہی کے حصول کی نیت کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا ،
حدیث 2737–2737
باب: طواف کے دوران اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مستحب ہے
حدیث 2738–2738
باب: طواف کے دوران خیر و بھلائی کی گفتگو کرنے کی رخصت اور بُری بات چیت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث 2739–2739
باب: حطیم کے باہر سے طواف کرنے کا بیان
حدیث 2740–2740
باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی جو تاویل میں نے کی ہے ،
حدیث 2741–2741
باب: اس علت اور سبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے باہر سے طواف کیا تھا
حدیث 2742–2742
باب: حج قران کرنے والے کے مکّہ مکرّمہ پہنچ کر طواف کرنے اور اس بات کا بیان کہ حج قران کرنے والے پر صرف ایک ابتدائی طواف واجب ہے ۔
حدیث 2743–2746
باب: مکّہ مکرّمہ میں نماز فجر اور نماز عصر کے بعد طواف کرنا اور نماز جائز ہے ۔
حدیث 2747–2749
باب: طواف کے دوران پانی پینے کی رخصت کا بیان
حدیث 2750–2750
باب: جانوروں کو ہانکنے کی طرح طواف کرنے والے کو لگام ڈال کر یا دھاگے کے ساتھ باندھ کر طواف کرانا منع ہے
حدیث 2751–2752
باب: بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث 2753–2753
باب: طواف سے فارغ ہوکر مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھنے کا بیان
حدیث 2754–2754
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ابراہیم پر آئے تو آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات ادا کی تھیں ۔
حدیث 2755–2755
باب: طواف کی دو رکعات ادا کرنے کے بعد دوبارہ حجر اسود کی طرف لوٹنا اور اس کا استلام کرنا ۔
حدیث 2756–2756
باب: حجر اسود کے استلام کے بعد صفا پہاڑی کی طرف جانا
حدیث 2757–2757
باب: صفا پہاڑی پر دعا کرتے وقت ہاتھ اُٹھانے کا بیان
حدیث 2758–2758
باب: صفا اور مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلنے اور صرف وادی کے نشیب میں دوڑنے کا بیان
حدیث 2759–2759
باب: صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کے متعلق ایک روایت کا بیان جس کے الفاظ عام ہیں ۔
حدیث 2760–2760
باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جس کے بارے میں میں نے کہا تھا کہ اس کے الفاظ عام اور مراد خاص ہے ۔
حدیث 0–2763
باب: اس بات کا بیان کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے ، یہ مباح یا غیر واجب نہیں ہے
حدیث 2764–2765
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو بتا دیا ہے کہ صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے میں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے
حدیث 2766–2768
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فرمان ” صفا مروہ کی سعی سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا ہے “ سے ان کی مراد یہ نہیں ہے کہ ان دونوں کےدرمیان سعی کرنا ایسی سنّت ہے جس کے بغیر بھی حج مکمّل ہوجاتا ہے
حدیث 2769–2769
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے ، خواہ دوڑ کر کی جائے یا عام رفتار سے آرام وسکون سے چل کر کی جائے
حدیث 2770–2773
باب: جو شخص کم علمی اور جہالت کی بنا پر صفا مروہ کی سعی بیت اللہ کے طواف سے پہلے کرلے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ جبکہ اسے معلوم نہ ہو کہ بیت اللہ شریف کا طواف سعی سے پہلے ہے
حدیث 2774–2774
باب: صفا اور مروہ پر کفّار اور بت پرستوں پر بد دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں شکست سے دو چار کرے اور ان کے قدم اکھیڑ دے ۔
حدیث 2775–2775
باب: معذور شخص کے لئے رخصت ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی سواری پر بیٹھ کر کرلے
حدیث 2776–2776
باب: ان وجوہات کا بیان جن کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تھی
حدیث 2777–2777
باب: جب مذہبی راہنما اور عالم دین صفا اور مروہ کے درمیان پیدل چل رہا ہو
حدیث 2778–2778
باب: صفا اور مروہ کی سعی کے دوران میں سواری پر بیٹھنے کی رخصت ہے
حدیث 2779–2779
باب: سواری پر طواف کرنے والا شخص چھڑی سے حجراسود کا استلام کرسکتا ہے
حدیث 2780–2781
باب: حجر اسود کو چھڑی کے ساتھ چھونے کی بعد چھڑی کے اس کنارے کو بوسہ دینے کا بیان ،
حدیث 2782–2783
باب: صفا اور مروہ کی سعی کرنے کے بعد عمرہ کرنے والا حلال ہو جاتا ہے ( تمام پاپندیاں ختم ہوجاتی ہیں )
حدیث 2784–2785
باب: حج تمتع کرنے والا شخص عمرے کی ادائیگی کے بعد احرام کھولنے سے لیکر حج کا احرام باندھنے کے دوران بیوی سے ہمبستری کرسکتا ہے اگرچہ عمرے کا احرام کھولنے اور دوبارہ حج کا احرام باندھنے میں چند دن کا وقفہ ہی ہو
حدیث 2786–2786
باب: عمرہ کرنے والا شخص مکّہ مکرّمہ میں جہاں چاہے اپنا قربانی کا جانور ذبح یا اونٹ کونحر کرسکتا ہے
حدیث 2787–2787
باب: عمرے کا احرام باندھنے والی عورت مکّہ مکرّمہ میں حیض کی حالت میں پہنچے تو وہ کیا کرے
حدیث 2788–2788
باب: حج قران اور حج مفرد کرنے والے یومِ النحر تک حالت احرام ہی میں رہیں گے
حدیث 2789–2790
باب: مکّہ مکرّمہ سے پیدل حج کرنے کی فضیلت ، بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو کیونکہ عیسیٰ بن سواد کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہے
حدیث 2791–2791
باب: آدم علیہ السلام کے حجوں کی تعداد اور کیفیت کا بیان ، بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو کیونکہ قاسم بن عبدالرحمٰن کے بارے میں میرا دل ِغیر مطمئن ہے
حدیث 2792–2792
باب: لوگوں کو مناسک حج سکھانے کے لئے سات ذوالحجہ کو امام کا خطبہ دینا
حدیث 2793–2793
باب: حج تمتع کرنے والا شخص یوم الترویہ ( 8 ذوالحجہ ) کو مکّہ مکرّمہ سے احرام باندھے گا اور تلبیہ پکارے گا
حدیث 2794–2795
باب: یوم الترویہ ( 8 ذوالحجہ ) کو مکّہ مکرّمہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہونے کے وقت کا بیان
حدیث 2796–2797
باب: ان نمازوں کی تعداد کا بیان جو امام اور لوگ عرفات روانہ ہونے سے پہلے منیٰ میں ادا کریں گے
حدیث 2798–2799
باب: منیٰ سے عرفات روانہ ہونے کے وقت کا بیان
حدیث 2800–2801
باب: اس بات کا بیان کہ منیٰ سے عرفات روانہ ہونے کا مسنون طریقہ سورج طلوع ہونے کے بعد روانہ ہونا ہے ۔ اس سے پہلے نہیں
حدیث 2802–2802
باب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے سورج طلوع ہونے کے بعد روانگی میں ابراہیم خلیل اللہ عليه السلام کی اتباع کی ہے
حدیث 2803–2803
باب: عرفہ کی وجہ تسمیہ کا بیان ۔
حدیث 2804–2804
باب: منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے یا تکبیر پڑھنے کا اختیار ہے
حدیث 2805–2805
باب: منیٰ سے صبح کے وقت عرفات جاتے وقت « اللهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلٰهَ إِلَّا الله » اور تلبیہ پڑھنا
حدیث 2806–2806
باب: عرفات میں امام کے خطبے اور اس دن خطبے کے وقت کا بیان
حدیث 2807–2807
باب: عرفہ کے دن خطبہ کی کیفیت کا بیان
حدیث 2808–2808
باب: اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اونٹنی پر سوار ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا تھا ، آپ نے سواری سے اُتر کر زمین پر کھٹرے ہوکر خطبہ نہیں دیا تھا
حدیث 2809–2809
باب: عرفہ کے دن مختصر خطبہ دینے کا بیان
حدیث 2810–2810
باب: میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرکے پڑھنے کابیان
حدیث 2811–2811
باب: میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کرتے وقت ان کے درمیان نفل نماز ترک کردینے کا بیان اور موقف میں جانے کے وقت کا بیان
حدیث 2812–2812
باب: عرفات کے دن نماز جلدی پڑھنے کا بیان ، نماز میں تأخیر نہیں کرنی چاہیے
حدیث 2813–2813
باب: عرفات کے وقوف میں جلدی کرنے کا بیان
حدیث 2814–2814
باب: وقوف عرفات کا بیان ، حاجی کے لئے رخصت ہے کہ وہ عرفات میں جہاں چاہے وقوف کرلے کیونکہ سارا عرفات وقوف کی جگہ ہے
حدیث 2815–2815
حدیث 2816–2817
باب: اس بات کا بیان کہ وقوف عرفہ ابراہیم خلیل الرحمٰن عليه السلام کی سنّت اور وراثت ہے ، نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت اس وراثت کی وارث ہے
حدیث 2818–2819
باب: عرفات میں وقوف کے وقت کا بیان
حدیث 2820–2820
باب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : ” جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھ لی “ سے آپ کی مراد صبح کی نماز ہے ، کوئی اور نماز مراد نہیں ہے
حدیث 2821–2821
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اگر حاجی یوم النحر کی فجر طلوع ہونے تک عرفات نہ پہنچ سکے تو اس کا حج فوت ہو جائیگا ، وہ حج کو نہیں پا سکے گا ۔
حدیث 2822–2822
باب: سواریوں پر سوار ہو کر وقوف عرفہ کرنے کا بیان
حدیث 2823–2823
باب: وقوف عرفہ کے دوران دعا کرتے وقت دونوں ہاتھ اُٹھانے کا بیان اگر سوار نے ہاتھ میں سواری کی نکیل یا مہار پکڑنی ہو تو ایک ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا بھی جائز ہے
حدیث 2824–2825
باب: میدانِ عرفات میں قبلہ رخ ہوکر کھڑے ہونا چاہیے
حدیث 2826–2826
باب: عرفہ کے دن فضیلت اور اس دن اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت و بخشش کی امید کا بیان
حدیث 2827–2827
باب: عرفات کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ قوت و طاقت کے ساتھ خوب دعائیں مانگی جا سکیں
حدیث 2828–2829
باب: میدانِ عرفات اور موقف میں تلبیہ پکارنا مستحب ہے تاکہ یہ سنّت زندہ رہے کیونکہ کچھ لوگوں نے بعض اوقات میں تلبیہ کہنا چھوڑ دیا تھا
حدیث 2830–2830
باب: وقوف عرفات میں تلبیہ پکارتے وقت ان الفاظ کا اضافہ کرنا درست ہے « اِنّ الْخَيْرَ خَيْرُالْآخِيْرَةِ » ” بیشک اصل خیر و بھلائی تو آخرت کی خیر و بھلائی ہے “
حدیث 2831–2831
باب: عرفات کے دن آنکھوں ، کانوں اور زبان کی خصوصی حفاظت کرنا
حدیث 2832–2834
باب: عرفات میں سواری کے اونٹوں کو موقف میں رکھنا مستحب ہے ۔
حدیث 2835–2835
باب: میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا کہ وہ حج میں ریاکاری اور شہرت سے محفوظ فرمائے ( اگر یہ حدیث ثابت ہو)
حدیث 2836–2836
باب: جاہلیت میں اہل کفر اور بت پرستوں کے عرفات سے لوٹنے کے وقت کے برخلاف مسلمانوں کی روانگی کے وقت کا بیان
حدیث 2837–2838
باب: اللہ تعالیٰ عرفات کے حاجیوں پر فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے
حدیث 2839–2840
باب: عرفات کی شام کو میدان عرفات میں خصوصی دعا کا بیان ، بشرطیکہ یہ حدیث صحیح ہو
حدیث 2841–2841
باب: عرفات کی وجہ تسمیہ کا بیان
حدیث 2842–2842
باب: عرفات سے منیٰ جاتے وقت چلنے کی کیفیت کا بیان ۔
حدیث 2843–2843
باب: اس بات کا بیان کہ عرفات سے واپسی پر اونٹوں ، گھوڑوں اور دیگر سواریوں کو دوڑانا اور تیز بھگانا کوئی نیکی نہیں بلکہ سکون اور اطمینان سے چلنا نیکی ہے ۔
حدیث 2844–2844
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ عرفات سے واپسی پر آرام و سکون سے چلنے کا حُکم جس حدیث میں ہے اس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے
حدیث 2845–2845
باب: عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے دعا مانگنے ، ذکر الہٰی اور « لَا اِلٰه اِلَّا اللّٰهُ » پڑھنے کا بیان
حدیث 2846–2846
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان بوقت ضرورت ٹھہرنا جائز ہے
حدیث 2847–2847
باب: مزولفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کرنے کا بیان
حدیث 2848–2848
باب: جب مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کریںگے تو ان کے درمیان کوئی نفل یا سنّت نہیں پڑھیں گے
حدیث 2849–2849
باب: جب مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کو جمع کریںگے تو مغرب کے لئے اذان اور اقامت جبکہ عشاء کے لئے صرف اقامت کہیں گے ۔
حدیث 2850–2850
باب: جب نماز مغرب اور عشاء کو جمع کرکے ادا کیا جائے تو ان دونوں کے درمیان نماز کے علاوہ کوئی حاجت و ضرورت پوری کرکے وقفہ کرنا جائز ہے
حدیث 2851–2851
باب: جب مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کریںگے تو ان کے درمیان کھانا کھانا جائز ہے ،
حدیث 2852–2852
باب: ( دس ذوالحجہ ) قربانی کی رات مزدلفہ میں گزارنے کا بیان
حدیث 2853–2853
باب: مزدلفہ میں دس ذوالحجہ کو نماز فجر اندھیرے میں ادا کرنے کا بیان
حدیث 2854–2854
باب: مزدلفہ میں فجر کی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہنے کا بیان
حدیث 2855–2855
باب: مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنا ، اس کا ذکر کرنا اور لَا إِلٰهَ إِلَّا الله پڑھنا ، اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور اس کی عظمت کو بیان کرنا
حدیث 2856–2856
باب: حاجی مزدلفہ میں جہاں چاہے وقوف کرسکتا ہے کیونکہ مزدلفہ سارے کا سارا موقف ہے
حدیث 2857–2858
باب: مشعر حرام سے واپس لوٹنا اور واپسی میں مشرکین اور بت پرستوں کے طریقے کی مخالفت کرنا
حدیث 2859–2859
باب: مزدلفہ سے منیٰ کی طرف چلنے کی کیفیت کا بیان ، اس سلسلے میں عام الفاظ کا بیان جن سے مراد خاص ہے
حدیث 2860–2860
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے منیٰ واپسی پر سکون و آرام سے چلے تھے سوائے وادی محسر کے ، آپ نے وہاں پر اونٹنی تیز چلائی تھِی
حدیث 2861–2862
باب: تیز چلنے کی ابتدا وادی محسر میں ہوئی تھی
حدیث 2863–2863
باب: مشعر حرام سے جمرے کی طرف آتے ہوئے کونسا راستہ اختیار کرنا چاہیے
حدیث 2864–2864
باب: دس ذوالحجہ میں نیک اعمال کی فضیلت کا بیان
حدیث 2865–2865
باب: یوم النحر ( دس ذوالحجہ ) کی فضیلت کا بیان
حدیث 2866–2866
باب: جمرات پر رمی کرنے کے لئے کنکریاں مزدلفہ ہی سے چننے کا بیان
حدیث 2867–2868
باب: عورتوں کو مزدلفہ سے رات کے وقت منیٰ بھیجنے کی رخصت ہے
حدیث 2869–2869
باب: کمزور افراد اور بچّوں کو مزدلفہ سے رات ہی کے وقت منیٰ بھیجنے کی رخصت ہے
حدیث 2870–2871
باب: مزدلفہ سے سامان رات کے وقت منیٰ بھیجنا جائز ہے
حدیث 2872–2872
باب: جمرات پر کتنی بڑی کنکری مارنی چاہیے
حدیث 2873–2875
باب: دس ذوالحجہ کے دن کنکریاں مارنے کا وقت
حدیث 2876–2876
باب: دس ذوالحجہ کو سوار ہوکر کنکریاں مارنا جائز ہے
حدیث 2877–2877
باب: جمرات کو کنکریاں مارتے وقت لوگوں کو مارنا اوار دھکے دینا منع ہے
حدیث 2878–2878
باب: اس جگہ کا بیان جہاں کھڑے ہوکر کنکریاں ماری جائیںگی
حدیث 2879–2879
باب: جمرات پر کنکریاں مارتے وقت چہرہ جمرے کی طرف ہونا چاہیے اور بیت اللہ شریف کو بائیں طرف کرکے کھڑے ہونے کا بیان
حدیث 2880–2880
باب: جمرات پر ہر کنکری پھنکتے وقت اللهُ أَكْبَرُ پڑھنا
حدیث 2881–2881
باب: جمرات پر کنکریاں مارتے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
حدیث 2882–2882
باب: جن عورتوں اور کمزور افراد کو رات کے وقت مزدلفہ سے منیٰ جانے کی رخصت دی گئی ہے انہیں سورج طلوع ہونے سے پہلے رمی کرنے کی رخصت ہے ۔
حدیث 2883–2883
باب: جن عورتوں کو مزدلفہ سے رات کے وقت منیٰ آنے کی رخصت ہے وہ طلوع فجر سے پہلے جمرے کو کنکریاں بھی مارسکتی ہیں
حدیث 2884–2884
باب: جب حاجی دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ پر رمی کرلے تو تلبیہ بند کردے
حدیث 2885–2887
باب: دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد جمرے کے پاس ٹھہرنا نہیں چاہیے
حدیث 2888–2888
باب: جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد قربانی کرنے کے لئے واپس مِنیٰ جانے کا بیان
حدیث 2889–2889
باب: حاجی منیٰ میں جہاں چاہے قربانی کرسکتا ہے
حدیث 2890–2890
باب: منیٰ میں مستقل رہائش گاہ بنانے کی ممانعت کا بیان ،
حدیث 2891–2891
باب: انسان کا اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح یا نحر کرنا مستحب ہے اور کسی دوسرے شخص کو بھی ذبح کرنے یا نحر کرنے کے لئے دے سکتا ہے
حدیث 2892–2892
باب: اونٹ کو کھڑا کرکے ٹانگ باندھ کر نحر کرنے کا بیان
حدیث 2892–2894
باب: جانور کو ذبح یا نحر کرتے وقت ِبسْمِ اللهِ ، اللهُ أَكْبَرُ پڑھنا
حدیث 2895–2896
باب: حج کی قربانی میں نراور مادہ جانور دونوں قربان کرنا جائز ہے
حدیث 2897–2897
باب: اہل حرب مشرکین اور بت پرستوں سے حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے جانور قربانی کے لئے مکّہ مکرّمہ بھیجنا مستحب ہے تاکہ اس سے مشرکین کو غصّہ اور رنج دلایا جائے
حدیث 2898–2898
باب: قربانی کرتے وقت جانور کو قبلہ رخ کرنا اور دعا پڑھنا مستحب ہے
حدیث 2899–2899
باب: ایک اونٹ یا گائے کی قربانی میں کئی افراد شریک ہوسکتے ہیں
حدیث 2900–2901
باب: حج تمتع کرنے والے سات حاجی ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی میں شریک ہوسکتے ہیں ۔
حدیث 2902–2902
باب: حج تمتع کرنے والی عورتیں بھی ایک گائے کی قربانی میں شریک ہوسکتی ہیں
حدیث 2903–2903
باب: حج تمتع کرنے والی عورت کے حُکم کے بغیر اور اس کو بتائے بغیر اس کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے
حدیث 2904–2904
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اضحیہ ( قربانی ) کا لفظ واجب ھدی ( قربانی ) پر بولا جاتا ہے ،
حدیث 2905–2905
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی اس روایت ” ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ نحرکیا “ میں ایک اونٹ کی قربانی میں سات سے زیادہ افراد کی شرکت کی ممانعت نہیں ہے ۔
حدیث 2906–2909
باب: زیادہ قیمتی اور اعلیٰ جانور قربانی کرنا مستحب ہے
حدیث 2910–2911
باب: جانوروں کے ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے ان کی قربانی کرنا یا مکّہ مکرّمہ میں قربانی کے لئے بھیجنا درست نہیں ہے
حدیث 2912–2912
باب: حج کی قربانی اور عید کی قربانی پر کٹے کان والا جانور ذبح کرنے کی ممانعت صرف اس لئے ہے کہ صحیح سلامت کان اور سینگ والا جانور ذبح کرنا افضل واعلیٰ ہے یہ مطلب نہیں کہ کٹے کان اور ٹوٹے سینگ والا جانور قربان کرنا جائز نہیں
حدیث 2913–2913
باب: حج اور عید کی قربانی میں آنکھوں اور کانوں میں نقص والے جانور ذبح نہ کرنا ، یہی ہے کہ ایسے جانور ذبح نہ کرنا بہتر ہے ۔
حدیث 2914–2915
باب: بھیڑ کا ایک سالہ بچہ قربان کیا جا سکتا ہے حج اور عید کی قربانی میں ۔ اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان
حدیث 2916–2916
باب: حج کی قربانی کا گوشت اس کے مالک کی اجازت سے کاٹ لینا درست ہے
حدیث 2917–2917
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بھیڑ کا ایک سالہ بچّہ دونتا بکرا وغیرہ نہ ملنے کی صورت میں کفائت کرجائیگا
حدیث 2918–2918
باب: ایک مجمل غیر مفسرروایت کے ساتھ حج کی قربانی کا گوشت ، اس کا چمڑا اور جھول سب کچھ صدقہ کرنے کا بیان
حدیث 2919–2919
باب: حج کی قربانی کا گوشت ، ان کے چمڑے اور جھولیں مساکین میں صدقہ کرنے کا بیان
حدیث 2920–2920
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کل کا اطلاق بعض پر بھی ہوتا ہے اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قربانی کے اونٹوں کا سارا گوشت تقسیم کرنے کا حُکم دیا ، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اس گوشت کے علاوہ تقسیم کردیں جو آپ نے ہر اونٹ سے کچھ گوشت لیکر پکانے کا حُکم دیا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا شوربہ پیا تھا اور گوشت نوش فرمایا تھا
حدیث 2921–2921
باب: قصاب کو قربانی کے جانور میں سے اجرت نہ دینے کا بیان ، اس سلسلے میں ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان
حدیث 2922–2922
باب: گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان ۔
حدیث 2923–2923
باب: حج کی قربانی میں سے گوشت کھانے کا بیان جبکہ وہ نفلی قربانی ہو
حدیث 2924–2924
باب: حج کی قربانی کا جانور گم ہو جائے ، پھر اس جگہ دوسرا جانور ذبح کرنے کے بعد وہ بھی مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے
حدیث 2925–2925
باب: حج تمتع کرنے والے کو قربانی کا جانور نہ ملے تو وہ روزے رکھے گا
حدیث 2926–2927
باب: اونٹ نحر کرنے یا کوئی دوسرا جانور ذبح کرنے کے بعد سر منڈوانے کا بیان اور سر منڈواتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا مستحب ہے ۔
حدیث 2928–2928
باب: حج اور عمرے میں سر منڈوانا افضل ہے اگرچہ بال کتروانا بھی جائز ہے
حدیث 2929–2929
باب: حجتہ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن صاحب نے بال مونڈھے ان کا نام
حدیث 2930–2930
باب: سر کے بال منڈوانے کے ساتھ ناخن ترشوانا بھی مستحب ہے
حدیث 2931–2932
باب: دس ذوالحجہ یوم النحر کو سر منڈوانے کے بعد اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے خوشبو لگانا جائز ہے ۔
حدیث 2933–2934
باب: یوم النحر دس ذوالحجہ کو طواف زیارہ سے پہلے کستوری والی خوشبو لگانا جائز ہے
حدیث 2935–2935
باب: حائضہ عورت کو رخصت ہے کہ وہ بیت اللہ کے طواف اور نماز کے علاوہ تمام مناسک ادا کرسکتی ہے
حدیث 2936–2936
باب: یوم النحر دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد طواف زیادت سے پہلے شکار کرنا اور جو چیزیں محرم کے لئے حرام تھیں وہ سب جائز ہو جاتی ہیں
حدیث 2937–2939
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ رمی کرنے ، قربانی کرنے اور سرمنڈوانے کے بعد بعض علماء کے نزدیک طواف زیارہ سے پہلے خوشبو لگانا
حدیث 2940–2940
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی تعمیل میں طواف زیارہ یوم النحر دس ذوالحجہ ہی کو کرنا مستحب ہے ۔
حدیث 2941–2941
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ طواف زیارہ کی دو رکعات ادا کرنے کے بعد حاجی کے لئے اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا حلال ہوجاتا ہے اگرچہ حاجی طواف کرنے کے بعد مکّہ مکرّمہ میں ہی ہو اور ابھی منیٰ واپس نہ لوٹا ہو
حدیث 2942–2942
باب: حج قران کرنے والا طواف زیارہ میں رمل نہیں کریگا ۔ حج افراد کرنے والے کا حُکم بھی یہی ہے
حدیث 2943–2943
باب: طواف زیارہ سے فارغ ہونے پر آبِ زمزم پینا مستحب ہے
حدیث 2944–2945
باب: آب زمزم کنویں سے نکال کر لوگوں کو پلانا مستحب ہے
حدیث 2946–2946
باب: نبیذ کی سبیل سے نبیذ پینا مستحب ہے جبکہ نبیذ نشہ آور نہ ہو
حدیث 2947–2947
باب: حج تمتع کرنے والا طواف زیارہ کے ساتھ صفا اور مروہ کی سعی بھی کریگا
حدیث 2948–2948
باب: حج مفرد اور حج قران کرنے والا طواف زیارہ کے ساتھ صفا مروہ کی سعی نہیں کریگا
باب: جو شخص لا علمی میں حج کے مناسک آگے پیچھے کرلے
حدیث 2949–2950
باب: قربانی والے دن منیٰ میں ظہر کی نماز کے بعد امام کا خطبہ دینا
حدیث 2951–2952
باب: امام کا سواری پر ( اونٹ پر ) سوار ہوکر خطبہ دینا
حدیث 2953–2953
باب: قربانی والے دن طواف زیارہ کے بعد حاجی کو جماع کرنے کی رخصت ہے
حدیث 2954–2954
باب: قربانی والے دن حاجی کچھ مناسک حج بھول جائے تو پھر اسے یاد آجائے تو وہ کیا کرے
حدیث 2955–2955
باب: ایام تشریق کی راتیں منیٰ میں گزارنے کا بیان
حدیث 2956–2956
باب: آل عباس کو حاجیوں کو پانی پلانے کے لئے منیٰ کے ایام میں رات کو مکّہ مکرّمہ میں رہنے کی اجازت ہے
حدیث 2957–2957
باب: جب حاجی قربانی والے دن شام تک طواف افاضہ نہ کرسکے تو اسے کپڑے پہننا اور خوشبو لگانا منع ہے ۔
حدیث 2958–2958
باب: عیدالفطر اور عیدالاضحٰی کے دن روزہ رکھنا منع ہے
حدیث 2959–2959
باب: ایام تشریق کے روزں کی ممانعت کا بیان ۔ حدیث کی دلالت سے ممانعت ثابت ہوتی ہے لیکن حدیث میں ممانعت کی صراحت نہیں ہے
حدیث 2960–2960
باب: ایام تشریق کے روزوں کی صریح ممانعت کا بیان ، ممانعت کے لئے اشارے کنائے کی بجائے صراحت کا بیان
حدیث 2961–2961
باب: منیٰ میں نماز پڑھنے کے مسنون طریقے کا بیان
حدیث 2962–2963
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعات اس لئے ادا کیں کیونکہ آپ مسافر تھے ، مقیم نہیں تھے ۔ کیونکہ آپ مدینہ منوّرہ کے رہائشی تھے ۔
حدیث 2964–2965
باب: ایام تشریق کے پہلے دن ( یوم القر) کی فضیلت کا بیان
حدیث 2966–2966
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمرات پر کنکریاں مارنے کی ابتدا کا بیان اور اس علت کا بیان جس کی بنا پر آپ نے منیٰ آتے ہی کنکریاں ماریں
حدیث 2967–2967
باب: ایام تشریق میں جمرات کو کنکریاں مارنے کے وقت کا بیان
حدیث 2968–2969
باب: اس بات کا بیان کہ جمرات کو کنکریاں مارنے کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہے ۔ صرف کنکریاں مارنا مقصود نہیں ہے
حدیث 2970–2970
باب: جمرات پر رمی کرتے وقت ہر کنکری کے ساتھ اللهُ أَكْبَرُ پڑھنے کا بیان
حدیث 2971–2971
باب: پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر ٹھہرنا چاہیے
حدیث 2972–2972
باب: امام کا ایام تشریق کے درمیانی دن خطبہ دینے کا بیان
حدیث 2973–2973
باب: روانگی کے پہلے دن ( 12 ذوالحجہ کو ) امام کا خطبے میں لوگوں کو روانہ ہونے اور کنکریاں مارنے کی تعلیم دینے اور بقیہ مناسک حج سکھانے کا بیان
حدیث 2974–2974
باب: چرواہوں کو رات کے وقت رمی کرنے کی رخصت ہے
حدیث 2975–2975
باب: چراوہوں کو رخصت ہے کہ ایک دن ( اکٹھی دو دن کی ) رمی کرلیں اور ایک دن رمی نہ کریں
حدیث 2976–2978
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو ایام تشریق کے دنوں میں رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کرلیں اور دوسرے دن جانور چرائیں ۔
حدیث 2979–2979
باب: ایام تشریق کے آخری دن منیٰ سے روانگی کے وقت کا بیان
حدیث 2980–2980
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں وادی محصب میں ٹھہرنا مستحب ہے
حدیث 2981–2982
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منیٰ ہی میں بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں ٹھہریں گے ۔ اور سیدنا ابو رافع کے اس قول سے ان کی مراد
حدیث 2983–2986
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اترے تھے تاکہ آپ کی روانگی آسان ہو اگرچہ آپ نے منیٰ ہی میں صحابہ کرام کو بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں اتریں گے
حدیث 2987–2988
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کبھِ کسی چیز کی نفی کردی جاتی ہے جبکہ وہ چیز واجب نہیں ہوتی اگرچہ وہ چیز مباح ہوتی ہے
حدیث 2989–2989
باب: وادی محصب میں اترنا مستحب ہے ،
حدیث 2990–2991
باب: جب آدمی وادی محصب میں قیام کرے تو وہاں نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث 2992–2994
باب: اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ سے روانگی کے بعد وادی ابطح میں قصر نماز ادا کی تھی
حدیث 2995–2996
باب: نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے اخیر رات میں محصب سے واپسی کے لئے سفر کرنا مستحب ہے
حدیث 2997–2998
باب: طوافِ وداع کرنے کا حُکم اس سلسلے میں مروی حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر ان کی مراد خاص ہے
حدیث 2999–3000
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گزشتہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور اس سے مراد خاص ہے ۔
حدیث 3001–3001
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو بغیر طواف وداع کیے روانگی کی اجازت اس وقت دی ہے جب وہ اس سے پہلے طواف افاضہ کرچکی ہوں پھر انہیں حیض آیا ہو
حدیث 3002–3002
باب: کعبہ میں داخل ہونا اور وہاں اللہ کا ذکر کرنا اور دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث 3003–3003
باب: بیت اللہ کے اندر داخل ہو کر کعبہ کی دیوار پر چہرہ اور پیشانی رکھنا اور ذکر الٰہی و استغفار کرنا
حدیث 3004–3005
باب: کعبہ شریف کے ہر ہر رکن کے پاس تکبیر ، تہلیل ، تحمید ، دعائیں اور استغفار کرنے کا بیان
حدیث 3006–3006
باب: کعبہ شریف میں داخل ہوکر دو ستونوں کے درمیان سجدہ کرنا اور سجدہ کرنے کے بعد بیٹھنا اور دعائیں مانگنا مستحب ہے
حدیث 3007–3007
باب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کے اندر نماز پڑھی ہے
حدیث 3008–3008
باب: اس مقام کا ذکر جہاں بیت اللہ کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازپڑھی
حدیث 3009–3010
باب: اس مقدار اور فاصلے کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز اور کعبہ شریف کی دیوار کے درمیان تھا
حدیث 3011–3011
باب: آدمی جب بیت اللہ میں داخل ہو تو اس پر خشوع خضوع کی کیفیت ہونی چاہیے اور بیت اللہ سے واپس نکلنے تک نگاہیں سجدہ کی جگہ پر ہونی چاہئیں
حدیث 3012–3012
باب: کعبے شریف کے اندر داخل ہونا مستحب ہے کیونکہ کعبہ میں داخلے پر آدمی نیکی کا مستحق ہوجاتا ہے اور گناہ سے نکل جاتا ہے اور اسے بخش دیا جاتا ہے
حدیث 3013–3013
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بیت اللہ شریف میں داخل ہونا واجب نہیں ہے
حدیث 3014–3014
باب: کعبہ شریف سے نکلنے کے بعد اس کے دروازے کے پاس نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث 3015–3015
باب: اس جگہ کا ذکر جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ سے باہر تشریف لانے کے بعد نماز پڑھی تھی
حدیث 3016–3016
باب: کعبہ شریف سے نکلنے کے بعد بیت اللہ شریف کو چمٹنے لپٹنے کا بیان
حدیث 3017–3017
باب: جب بیت اللہ شریف میں داخل ہونا ممکن نہ ہو تو حطیم میں نماز پڑھنا مستحب ہے کیونکہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ شریف کا جزو ہے
حدیث 3018–3019
باب: اس بات کا بیان کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ شریف کا جزو ہے ، سارا حطیم بیت اللہ شریف کا حصّہ نہیں ہے
حدیث 3020–3023
باب: ایامِ تشریق گزر جانے کے بعد ذوالحجہ ہی میں عمرہ کرنا جائز ہے
حدیث 3024–3024
باب: حج کرنے کے بعد ذوالحجہ ہی کے مہینے میں مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جاسکتا ہے
حدیث 3025–3026
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ میقات سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے کی نسبت زیادہ افضل اور ثواب کا حامل ہے ۔
حدیث 3027–3027
باب: قربانی کے دن گزر جانے کے بعد عمرہ کرنے والے سے قربانی ساقط ہوجاتی ہے اگرچہ اس نے اسی سال حج کیا ہو ( یعنی خاص عذر کے وجہ سے حج سے پہلے عمرہ نہیں ہوسکا تھا اور پھر حج کے بعد عمرہ کیا )
حدیث 3028–3029
باب: جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے حج نہ کرسکتا ہو اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص حج کرسکتا ہے
حدیث 3030–3030
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب بوڑھا شخص بڑھاپے میں مال کمانے کی وجہ سے مالدار ہوجائے یا اسلام لانے کے بعد اسے دولت حاصل ہوئی ہوتو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے اگرچہ وہ خود حج کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ۔
حدیث 3031–3032
باب: عورت ، مرد کی طرف سے حج بدل کرسکتی ہے
حدیث 3033–3033
باب: میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان اس سلسلے میں وارد روایت ہمارے اصول کے مطابق مجمل ہے ، مفصل نہیں ہے
حدیث 3034–3035
باب: اس شخص کی طرف سے حج کرنے کا بیان جس پر اسلام لانے کی وجہ سے یا مال حاصل ہونے کی وجہ سے یا دونوں وجوہات کی بنا پر حج فرض ہوگیا مگر وہ بڑھاپے کی وجہ سے بدنی استطاعت نہیں رکھتا
حدیث 3036–3036
باب: اگر عورت بڑھاپے کہ وجہ سے حج نہ کرسکتی ہو تو اس کے بدلے مرد حج کرسکتا ہے ۔
حدیث 3037–3038
باب: جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو وہ میت کی طرف سے حج بدل بھی نہیں کرسکتا
حدیث 3039–3039
باب: جو شخص بڑھاپے کی وجہ سے عمرہ ادا نہ کرسکتا ہو اس کی طرف سے عمرہ ادا کرنے کا بیان
حدیث 3040–3040
باب: اگر کوئی حج کرنے کی نذر مانے اور پھر نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو اس کی طرف سے نذر پوری کرنے چاہیے ،
حدیث 3041–3041
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ واجب حج ( مرنے والے کے ) سارے مال سے ادا کیا جائیگا ، ایک تہائی مال سے نہیں
حدیث 3042–3042
باب: اگر کسی نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ چلنے سے عاجز آگیا ،تھک ہار گیا تو وہ کیا کرے ہے ۔ اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفسل روایت کا بیان
حدیث 3043–3044
باب: اگر کوئی شخص پیدل حج کرنے کی نذر مانے اور پیدل چلنے سے عاجز آجائے تو اس کو نذر توڑںے پر فدیہ دینا چاہیے پہلے باب میں جو دو حدیثیں ذکر کی گئی ہیں وہ مختصر تھیں ( ان میں فدیہ کا ذکر نہیں تھا )
حدیث 3045–3045
باب: کعبہ تک پیدل چل کر جانے کی قسم اٹھانا ، پھر قسم اٹھانے والا پیدل چلنے سے عاجز آجائے تو وہ کیا کرے ؟
حدیث 3046–3047
باب: بالغ ہونے سے پہلے بچّے پر حج کی فرضیت نہیں ہے اسی طرح مجنون پر بھی حج فرض نہیں ہے جب تک کہ وہ صحت مند نہ ہوجائے
حدیث 3048–3048
باب: بچّوں کا بالغ ہونے سے پہلے نفلی حج کرنے کا بیان ۔
حدیث 3049–3049
باب: جو بچّہ بلوغت سے پہلے حج کرلے اور پھر بالغ ہوجائے تو کیا کرے ؟
حدیث 3050–3050
باب: حج کے لئے کرائے پر سواری دینا اور سواری والے کا خود بھی حج کرنا جائز ہے
حدیث 3051–3052
باب: مزدوروں کے حج کا بیان
حدیث 3053–3053
باب: حج کے دوران تجارت کرنا جائز ہے
حدیث 3054–3055
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجوں کی تعداد کا بیان
حدیث 3056–3056
باب: اس حدیث کے متن کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان ۔
حدیث 3057–3062
باب: کسی حادثے کا خدشہ ہوتو مکہ مکرمہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کی رخصت ہے
حدیث 3063–3064
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔