کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: حج قران کرنے والے کے مکّہ مکرّمہ پہنچ کر طواف کرنے اور اس بات کا بیان کہ حج قران کرنے والے پر صرف ایک ابتدائی طواف واجب ہے ۔
وَالْبَيَانُ أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ طَوَافٌ وَاحِدٌ فِي الِابْتِدَاءِ، ضِدُّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلَى الْقَارِنِ فِي الِابْتِدَاءِ طَوَافَيْنِ وَسَعْيَيْنِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس شخص کو قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ حج قران کرنے والے پر ابتداء میں دو طواف اور دو مرتبہ سعی کرنا واجب ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ ، فَقَالَ : اجْعَلْهَا عُمْرَةً ، فَإِنْ أَنَا صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلا وَاحِدًا ، وَأُشْهِدُكُمْ إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجَّةً ، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا اشْتَرَى هَدْيًا وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي طَافَ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام نافع رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا ، پھر کہنے لگے کہ میں اسے عمرہ بنا لیتا ہوں، اگر مجھے راستے میں روک دیا گیا تو میں اس طرح کروںگا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا ۔ پھر جب بیداء مقام پر پہنچے تو فرمایا کہ میرے خیال میں حج اور عمرے کا ایک ہی حُکم ہے ۔ لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنےعمرے کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے ( حج قران کی نیت کرلی ہے ) پھر جب قدید مقام پر پہنچے تو قربانی کا اونٹ خریدا اور اسے اپنے ساتھ لیکر چل دیئے حتّیٰ کہ مکّہ مکرّمہ پہنچ گئے ۔ پس بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جن صحابہ کرام نے حج قرن کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ بْنِ وَائِلِ بْنِ وَضَّاحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ ، ثُمَّ يَحِلُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا ہے تو اسے ان دونوں کے لئے ایک ہی طواف کافی ہوگا ۔ پھر وہ اپنا حج مکمّل کرنے تک احرام نہ کھولے ۔ پھر ( 10 ذوالحجہ کو ) ان دونوں کا اکٹھا احرام کھول دے ۔ “
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ لَبَّى بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ انہوں نے حج اور عمرہ کے لئے تلبیہ پکارا پھر ان دونوں کے لئے ایک ہی طواف کیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا ۔