صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(192) بَابُ ذِكْرِ طَوَافِ الْقَارِنِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ عِنْدَ مَقْدِمِهِ مَكَّةَ باب: حج قران کرنے والے کے مکّہ مکرّمہ پہنچ کر طواف کرنے اور اس بات کا بیان کہ حج قران کرنے والے پر صرف ایک ابتدائی طواف واجب ہے ۔
وَالْبَيَانُ أَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ طَوَافٌ وَاحِدٌ فِي الِابْتِدَاءِ، ضِدُّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلَى الْقَارِنِ فِي الِابْتِدَاءِ طَوَافَيْنِ وَسَعْيَيْنِاس شخص کو قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ حج قران کرنے والے پر ابتداء میں دو طواف اور دو مرتبہ سعی کرنا واجب ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ ، فَقَالَ : اجْعَلْهَا عُمْرَةً ، فَإِنْ أَنَا صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلا وَاحِدًا ، وَأُشْهِدُكُمْ إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجَّةً ، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا اشْتَرَى هَدْيًا وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ يَعْنِي طَافَ ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ "امام نافع رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا ، پھر کہنے لگے کہ میں اسے عمرہ بنا لیتا ہوں، اگر مجھے راستے میں روک دیا گیا تو میں اس طرح کروںگا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا ۔ پھر جب بیداء مقام پر پہنچے تو فرمایا کہ میرے خیال میں حج اور عمرے کا ایک ہی حُکم ہے ۔ لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنےعمرے کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے ( حج قران کی نیت کرلی ہے ) پھر جب قدید مقام پر پہنچے تو قربانی کا اونٹ خریدا اور اسے اپنے ساتھ لیکر چل دیئے حتّیٰ کہ مکّہ مکرّمہ پہنچ گئے ۔ پس بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔