صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها— ایسے افعال کے ابواب کا مجموعہ کے محرم کے لئے ، جنہیں کرنے کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے ¤ جبکہ سنّت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواز اور اباحت پر دلالت کرتی ہے
(191) بَابُ ذِكْرِ الْعِلَّةِ الَّتِي لَهَا طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ باب: اس علت اور سبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے باہر سے طواف کیا تھا
إِذِ الطَّائِفُ بِبِنَاءِ الْبَيْتِ إِذَا خَلَّفَ الْحِجْرَ وَرَاءَهُ غَيْرُ طَائِفٍ لِجَمِيعِ الْكَعْبَةِ إِذْ بَعْضُ الْحِجْرِ مِنَ الْكَعْبَةِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ لَا بِبَعْضِهِحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ ، فَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ فِي بِنَائِهِ ، وَجَعَلَتْ لَهُ خَلْفًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَعْنِي بَابًا آخَرَ فِي خَلْفٍ ، ثَنَاهُ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ : لِيسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نکل کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر اسے حضرت ابراہیم عليه السلام کی بنیادوں پر بنا دیتا ۔ کیونکہ قریش نے ( اسے تیار کرتے وقت ) اس کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا اور میں کعبہ شریف کی پچھلی جانب ایک دروازہ بناتا ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ” خَلْفًا “ کا معنی ہے ، ایک اور دروازہ پچھلی جانب بنا دیتا ۔ سلم بن جنادہ نے اس کو ابومعاویہ کے حوالے سے ہشام سے بیان کیا ہے۔ لیکن اس میں ” لِي“ ( مجھے ) کا لفظ بیان نہیں کیا ۔