کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں اترنا
حدیث نمبر: 10621
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ هَادٍ يَهْدِينِي فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا فَقَالُوا ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَدَخَلَا قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا أَقْبَحَ مِنَ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے ردیف تھے، راستے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا جاتا تھا، کیونکہ وہ شام آتے جاتے وقت اس راستے والے لوگوں کے پاس سے گزرتے رہتے تھے، اس لیے لوگوں نے پوچھا: اے ابو بکر! یہ آپ کے آگے والا آدمی کون ہے؟ وہ کہتے: یہ میری رہنمائی کرنے والا رہبر ہے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصاری قبیلے کے مسلمان ہونے والے لوگوں کو اور ابو امامہ اور اس کے ساتھیوں کو پیغام بھیجا، وہ لوگ آ گئے اور انھوں نے کہا: آپ دونوں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں، پس وہ داخل ہوئے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ نور اور حسن والا ہو، اس دن کی بہ نسبت، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے، اور چونکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے موقع پر بھی مدینہ میں موجود تھا، اس لیے میں نے کوئی دن نہیں دیکھا، جو زیادہ اندھیرے اور قباحت والا ہو، اس دن سے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تھی۔
حدیث نمبر: 10622
عَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے حبشی لوگ جنگی آلات کے ساتھ کھیلے۔
حدیث نمبر: 10623
عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرُوا جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً وَقَالَ مَرَّةً نَحَرْتُ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگوں نے اونٹ یا گائے ذبح کی۔
حدیث نمبر: 10624
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا قَالَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكُنَّا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لِيُؤَذِّنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِمِائَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ يَقُلْنَ أَيُّهُمْ هُوَ أَيُّهُمْ هُوَ قَالَ رَأَيْنَا مَنْظَرًا مُشْبِهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں میں دوڑ کر آتا اور ہم یہ کہہ رہے ہوتے: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آ گئے ہیں، پس میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی شخص نظر نہ آتا، پھر جب بچوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آ گئے ہیں تو میں دوڑ کر آتا، لیکن کوئی چیز نظر نہ آتی، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے، ہم اس وقت مدینہ کے بعض حرّوں میں تھے، پھر ایک آدمی نے ہمیں بھیجا تاکہ انصاریوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی آمد کا بتایا جائے، پس تقریباً پانچ سو انصاری آئے اور ان دو ہستیوںکے پاس پہنچ گئے اور کہا: تم دونوں امن و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھو، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی دونوں مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے، اُدھر سے اہل مدینہ نکل پڑے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کے چھتوں پر چڑھ گئیں اور کہنے لگیں: ان میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کون ہیں؟ ان میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کون ہیں؟ ہم نے اس دن ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (مسرت و شادمانی میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تھے، میں نے وہ دن بھی دیکھا تھا، اور جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تھی، پس اس دن بھی میں نے ایسا منظر دیکھا کہ جس کی (غم و حزن میں) کسی سے مشابہت ہی نہیں دی جا سکتی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)
حدیث نمبر: 10625
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يَأْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَعَهُمْ أَبُو أَيُّوبَ فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَوْمًا فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطَّلَعَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ قَالَ رَأَيْتُ فِيهَا بَصَلًا قَالَ وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ قَالَ بَلَى فَكُلُوهُ وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ وَقَالَ حَيْوَةُ إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاریوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلے جگہ دے گا، قرعہ میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا نام نکلا، پس انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کا ہدیہ پیش کیا جاتا تھا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی ہدیہ دیا جاتا تھا، ایک دن جب سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو ایک پیالے میں پیاز ڈالا ہوا تھا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس پیالے سے کیوں نہیں کھایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس میں پیاز دیکھا ہے۔ میں نے کہا: کیایہ ہمارے لیے حلال نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اس کو کھا سکتے ہو، بس میرے پاس (وحی اور فرشتوں کی صورت میں) وہ کچھ آتا ہے، جو تمہارے پاس نہیں آتا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت سے متعلقہ طویل حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے: وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِینَۃِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ مَکَّۃَ فَکَانُوا یَغْدُونَ کُلَّ غَدَاۃٍ إِلَی الْحَرَّۃِ فَیَنْتَظِرُونَہُ حَتّٰییَرُدَّہُمْ حَرُّ الظَّہِیرَۃِ فَانْقَلَبُوا یَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَہُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلٰی بُیُوتِہِمْ أَوْفٰی رَجُلٌ مِنْ یَہُودَ عَلٰی أُطُمٍ مِنْ آطَامِہِمْ لِأَمْرٍ یَنْظُرُ إِلَیْہِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہٖ مُبَیَّضِینَیَزُولُ بِہٖمُالسَّرَابُفَلَمْیَمْلِکِ الْیَہُودِیُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ یَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ہٰذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِظَہْرِ الْحَرَّۃِفَعَدَلَ بِہٖمْذَاتَالْیَمِینِ حَتَّی نَزَلَ بِہٖمْفِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ یَوْمَ الِاثْنَیْنِ مِنَ شَہْرِ رَبِیعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَاء َ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ یَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُحَیِّی أَبَا بَکْرٍ حَتّٰی أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتّٰی ظَلَّلَ عَلَیْہِ بِرِدَائِہِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عِنْدَ ذٰلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِی أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَسَارَ یَمْشِی مَعَہُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالْمَدِینَۃِ۔ … ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی، وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے، ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایکیہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو اس یہودی نے بے اختیار بلند آواز سے کہا: اے عربوں کی جماعت! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود، جس کا تم انتظار کرتے تھے۔ یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام حرہ کے پیچھے استقبال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش بیٹھے رہے، جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا تو وہ آتے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کہتے (اور سمجھتے کہ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دھوپ آگئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کردیا، اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اوپر مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی، …۔ (صحیح بخاری: ۳۶۱۶)
حدیث نمبر: 10626
عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ وَأَبُو أَيُّوبَ فِي الْعُلُوِّ فَانْتَبَهَ أَبُو أَيُّوبَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَحَوَّلَ فَبَاتُوا فِي جَانِبٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السُّفْلُ أَرْفَقُ بِي فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا فَتَحَوَّلَ أَبُو أَيُّوبَ فِي السُّفْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَتْبَعُ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرَ أَصَابِعُهُ فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثَوْمٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَمْ يَأْكُلْ فَصَعِدَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَحَرَامٌ هُوَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْرَهُهُ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ أَوْ مَا كَرِهْتَهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اترے تو گھر کے زیریں مقام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور بالائی مقام میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ خود، ایک رات کو جب سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے اوپر چل رہے ہیں، پس انھوں نے اپنی جگہ بدل لی اور کسی ایک جانب رات گزار دی، جب صبح ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیریں منزل میرے لیے زیادہ سہولیت آمیز ہے۔ لیکن سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس چھت پر نہیں چڑھوں گا، جس کے نیچے اللہ کے رسول ہوں، پس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نچلی منزل میں آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے، چونکہ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کرتے تھے، اس لیے جب وہ کھانا بھیجتے اور کھانا بچ کر واپس آ جاتا تو وہ کھانے کے اس مقام کے بارے میں سوال کرتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں لگی ہوتیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان کو تلاش کرتے اور وہاں سے کھاتے، روٹین کے مطابق ایک دن ہم نے کھانا تیار کیا، اس میں لہسن بھی تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھائے بغیر وہ کھانا واپس بھیج دیا، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے مقام کے بارے میں سوال کیا، لیکن جب ان کو یہ بتلایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو کھایا ہی نہیں ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چڑھے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو ناپسند کرتاہوں۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کروں گا، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (وحی اور فرشتے) آتے تھے، (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکروہ بو والا کھانا نہیں کھاتے تھے، جیسے پیاز، لہسن وغیرہ)۔
وضاحت:
فوائد: … کیا بات ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت وجود کے احترام کے تقاضے سمجھ لیے۔