کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
حدیث نمبر: 10609
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ فَجَعَلَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ قَالَ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ فَرَحَهُمْ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ قَالَ فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1] فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے صحابہ یہ تھے: سیدنا مصعب بن عمیر اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما ، یہ دونوں لوگوں کو قرآن مجید پڑھاتے تھے، پھر سیدنا عمار، سیدنا بلال اور سعدfبھی پہنچ گئے، ان کے بعد بیس افراد سمیت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی اہل مدینہ اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے خوش ہوئے، یہاں تک کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے سورۂ اعلی سمیت بعض مفصل سورتوں کی تعلیم حاصل کر لی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ایک قول کے مطابق سورۂ حجرات سے آخر قرآن تک، اس حصے کو مفصل کہتے ہیں۔