کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
حدیث نمبر: 10604
عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشَرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ مِنْ غُلَامِ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبَنَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ يُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس برس تک مکہ میں رہے، عکاظ اور مجنہ میں لوگوں کے ڈیروں پر جاتے اور مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں جاتے اور فرماتے: کون مجھے جگہ فراہم کرے گا؟ کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچاؤں اور اس شخص کو جنت ملے گی۔ حتی کہ ایک آدمییمن سے یا مضر سے مکہ کے لیے نکلتا اور اس کی قوم اس کے پاس آتی اور کہتی: قریشی آدمی سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تجھے فتنے میں نہ ڈال دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھروں کے درمیان چلتے اور وہ انگلیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے بھیجا، پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، پس ہم میں سے آدمی نکلتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا اور وہ بھی اس کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ انصاری محلوں میں سے کوئی محلہ نہ بچا، مگر اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے وجود پکڑ لیا، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے، پھر اِن سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا: ہم کب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑے رکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں جگہ نہ دی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں ڈرتے رہیں، پس ہم میں سے ستر افراد روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موسم کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے، پہلے ہی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقبہ گھاٹی میں ملاقات کرنے کا طے کر لیا تھا، پس ہم ایک دو دو افراد کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچتے گئے، یہاں تک کہ ہم سارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جمع ہو گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میری بیعت کرو، اس بات پر کہ سنو گے اور اطاعت کرو گے، مستعدی میں اور سستیمیں (یعنی ہر حال میں)، بدحالی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حق میں بات کرو گے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس چیز پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو مجھے بھی ان (مکروہات سے) بچاؤ گے، جن سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو بچاتے ہو، ان امور کے عوض تم کو جنت ملے گی۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، جوکہ سب سے کم سن تھے، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے یثرب والو! ذرا ٹھیرو، ہم اسی لیے دور دراز کا سفر کرکے آئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکنیاد رکھو کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں سے لے جانا سارے عربوں کی دشمنی مول لینے کے، اپنے پسندیدہ افراد کو قتل کروانے اور تلواروں سے کٹنے کے مترادف ہے، اب یا تو تم ان آزمائشوں پر صبر کرو اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور اگر تمہیں بزدلی کا ڈر ہو تو ابھی وضاحت کر دو، یہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہو گا۔ باقی انصاریوں نے سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اسعد! ہٹ جاہمارے سامنے سے،اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ اس کو واپس لیں گے، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ہم پر شرطیں لگائیں اور اس عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہم کو جنت دے گا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10604
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 1756، وابن حبان: 6274، والبيھقي: 8/ 146 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14510»
حدیث نمبر: 10605
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كَلْثُومٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُلْتُ بِيَمِينِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَا جَمِيعًا فِي الْحَدِيثِ وَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو غادیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، ابو سعید نے کہا: دائیں ہاتھ سے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ والے دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ سے ملاقات والے دن تک تمہارے خون اور اموال تم پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب سے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10605
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني مطولا: 22/ 912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20666 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20942»
حدیث نمبر: 10606
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ ثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي كَعْبِ بْنِ الْقَيْنِ أَخُو بَنِي سَلِمَةَ أَنَّ أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ وَكَانَ مِنْ أَعْلَمِ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ كَعْبٌ مِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَا قَالَ خَرَجْنَا فِي حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ صَلَّيْنَا وَفَقِهْنَا وَمَعَنَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا فَلَمَّا تَوَاجَهْنَا لِسَفَرِنَا وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ الْبَرَاءُ لَنَا يَا هَؤُلَاءِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ وَاللَّهِ رَأْيًا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي تُوَافِقُونِي عَلَيْهِ أَمْ لَا قَالَ قُلْنَا لَهُ وَمَا ذَاكَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لَا أَدَعَ هَذِهِ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ يَعْنِي الْكَعْبَةَ وَأَنْ أُصَلِّيَ إِلَيْهَا قَالَ فَقُلْنَا وَاللَّهِ مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّنَا يُصَلِّي إِلَّا إِلَى الشَّامِ وَمَا نُرِيدُ أَنْ نُخَالِفَهُ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي إِلَيْهَا قَالَ فَقُلْنَا لَهُ لَكِنَّا لَا نَفْعَلُ فَكُنَّا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَّيْنَا إِلَى الشَّامِ وَصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ أَخِي وَقَدْ كُنَّا عِبْنَا عَلَيْهِ مَا صَنَعَ وَأَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلْهُ عَمَّا صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَإِنَّهُ وَاللَّهِ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ لَمَّا رَأَيْتُ مِنْ خِلَافِكُمْ إِيَّايَ فِيهِ قَالَ فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا لَا نَعْرِفُهُ لَمْ نَرَهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَلَقِينَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ تَعْرِفَانِهِ قَالَ قُلْنَا لَا قَالَ فَهَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّهُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ وَكُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ كَانَ لَا يَزَالُ يَقْدَمُ عَلَيْنَا تَاجِرًا قَالَ فَإِذَا دَخَلْتُمَا الْمَسْجِدَ فَهُوَ الرَّجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ جَالِسٌ فَسَلَّمْنَا ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ يَا أَبَا الْفَضْلِ قَالَ نَعَمْ هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ سَيِّدُ قَوْمِهِ وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّاعِرُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي خَرَجْتُ مِنْ سَفَرِي هَذَا وَهَدَانِيَ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ فَرَأَيْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ الْبَنِيَّةَ مِنِّي بِظَهْرٍ فَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا وَقَدْ خَالَفَنِي أَصْحَابِي فِي ذَلِكَ حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَمَاذَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا فَقَالَ فَرَجَعَ الْبَرَاءُ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَنَا إِلَى الشَّامِ قَالَ وَأَهْلُهُ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ صَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى مَاتَ وَلَيْسَ ذَلِكَ كَمَا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ وَخَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَقَبَةَ مِنْ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الْحَجِّ وَكَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُو جَابِرٍ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَكُنَّا نَكْتُمُ مَنْ مَعَنَا مِنْ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمْرَنَا فَكَلَّمْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ يَا أَبَا جَابِرٍ إِنَّكَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَشَرِيفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا وَإِنَّا نَرْغَبُ بِكَ عَمَّا أَنْتَ فِيهِ أَنْ تَكُونَ حَطَبًا لِلنَّارِ غَدًا ثُمَّ دَعَوْتُهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبَرْتُهُ بِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ وَشَهِدَ مَعَنَا الْعَقَبَةَ وَكَانَ نَقِيبًا قَالَ فَنِمْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَعَ قَوْمِنَا فِي رِحَالِنَا حَتَّى إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِينَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّى اجْتَمَعْنَا فِي الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا وَمَعَنَا امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِهِمْ نَسِيبَةُ بِنْتُ كَعْبٍ أُمُّ عُمَارَةَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي سَلِمَةَ وَهِيَ أُمُّ مَنِيعٍ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا بِالشِّعْبِ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَنَا وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ إِلَّا أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَحْضُرَ أَمْرَ ابْنِ أَخِيهِ وَيَتَوَثَّقَ لَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مُتَكَلِّمٍ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ قَالَ وَكَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا يُسَمُّونَ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَهَا وَخَزْرَجَهَا إِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ وَقَدْ مَنَعْنَاهُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى مِثْلِ رَأْيِنَا فِيهِ وَهُوَ فِي عِزٍّ مِنْ قَوْمِهِ وَمَنَعَةٍ فِي بَلَدِهِ قَالَ فَقُلْنَا قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ فَتَكَلَّمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخُذْ لِنَفْسِكَ وَلِرَبِّكَ مَا أَحْبَبْتَ قَالَ فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَلَا وَدَعَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ قَالَ فَأَخَذَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَنَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أُزُرَنَا فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ أَهْلُ الْحُرُوبِ وَأَهْلُ الْحَلْقَةِ وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ قَالَ فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ وَالْبَرَاءُ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا وَإِنَّا قَاطِعُوهَا يَعْنِي الْعُهُودَ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذَلِكَ ثُمَّ أَظْهَرَكَ اللَّهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى قَوْمِكَ وَتَدَعَنَا قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَلِ الدَّمَ الدَّمَ وَالْهَدَمَ الْهَدَمَ أَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنِّي أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْرِجُوا إِلَيَّ مِنْكُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا يَكُونُونَ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَخْرَجُوا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا مِنْهُمْ تِسْعَةٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَوْسِ وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ ثُمَّ تَتَابَعَ الْقَوْمُ فَلَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَةِ بِأَبْعَدِ صَوْتٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ يَا أَهْلَ الْجُبَاجِبِ وَالْجُبَاجِبُ الْمَنَازِلُ هَلْ لَكُمْ فِي مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاةُ مَعَهُ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى حَرْبِكُمْ قَالَ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ مُحَمَّدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَزَبُّ الْعَقَبَةِ هَذَا ابْنُ أَزْيَبَ اسْمَعْ أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَأَفْرُغَنَّ لَكَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعُوا إِلَى رِحَالِكُمْ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ نَضْلَةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِيلَنَّ عَلَى أَهْلِ مِنًى غَدًا بِأَسْيَافِنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُومَرْ بِذَلِكَ قَالَ فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَيْنَا جُلَّةُ قُرَيْشٍ حَتَّى جَاءُونَا فِي مَنَازِلِنَا فَقَالُوا يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ إِلَى صَاحِبِنَا هَذَا تَسْتَخْرِجُونَهُ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا وَتُبَايِعُونَهُ عَلَى حَرْبِنَا وَاللَّهِ إِنَّهُ مَا مِنَ الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضَ إِلَيْنَا أَنْ تَنْشَبَ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ مِنْكُمْ قَالَ فَانْبَعَثَ مِنْ هُنَالِكَ مِنْ مُشْرِكِي قَوْمِنَا يَحْلِفُونَ لَهُمْ بِاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ هَذَا شَيْءٌ وَمَا عَلِمْنَاهُ وَقَدْ صَدَقُوا لَمْ يَعْلَمُوا مَا كَانَ مِنَّا قَالَ فَبَعْضُنَا يَنْظُرُ إِلَى بَعْضٍ قَالَ وَقَامَ الْقَوْمُ فِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ جَدِيدَانِ قَالَ فَقُلْتُ كَلِمَةً كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشْرِكَ الْقَوْمَ بِهَا فِيمَا قَالُوا مَا تَسْتَطِيعُ يَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَيْنِ مِثْلَ نَعْلَيْ هَذَا هَذَا الْفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ فَسَمِعَهَا الْحَارِثُ فَخَلَعَهُمَا ثُمَّ رَمَى بِهِمَا إِلَيَّ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتَنْتَعِلَنَّهُمَا قَالَ يَقُولُ أَبُو جَابِرٍ أَحْفَظْتَ وَاللَّهِ الْفَتَى فَارْدُدْ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَرُدَّهُمَا قَالَ وَاللَّهِ صَالِحٌ لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَأَسْلُبَنَّهُ فَهَذَا حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ مِنَ الْعَقَبَةِ وَمَا حَضَرَ مِنْهَا (مسند أحمد: 15891)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبید اللہ بن کعب، جو کہ انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی قوم کے مشرک لوگوںکے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہم نماز بھی پڑھتے تھے اور ہمیں دین کی سمجھ بھی تھی، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور ہمارے سردار سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے، جب ہم نے رخت ِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ سے نکل پڑے تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، لیکن یہ میں نہیں جانتا کہ تم میری موافقت کرو گے یا نہیں؟ ہم نے کہا: وہ ہے کون سا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ میں کعبہ کی عمارت کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا اور میں اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی بات پہنچی ہے کہ ہمارے نبی شام کی طرف نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت تو نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے کہا: میں تو کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: لیکن ہم اس طرح نہیں کریں گے، اب صورتحال یہ تھی کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو ہم شام کی طرف رخ کر کے اور سیدنا براء کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز ادا کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے، میرے بھائی نے کہا: ہم نے اس کے کیے کو معیوب تو سمجھا ہے، میرے باپ کی قسم! البتہ اس سے مخالفت نہیں کی، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کر کے لاؤ، جو میں نے اس سفر میں کی ہے، جب سے میں نے دیکھا کہ تم لوگ میری مخالفت کر رہے ہو تو میرے نفس میں اس کے بارے میں شبہ پڑ گیا ہے، وہ کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے کے لیے نکلے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچانتے نہیں تھے، کیونکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا، جب مکہ مکرمہ کے ایک باشندے سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، چونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بطورِ تاجر ہمارے پاس آتے رہتے تھے، اس لیے ہم ان کو پہچانتے تھے، بہرحال اس نے کہا: جب تم مسجد میں داخل ہو تو جو آدمی عباس کے ساتھ بیٹھا ہو گا، وہی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہوں گے، پس ہم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے، ہم نے ان کو سلام کہا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو الفضل! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ اپنی قوم کا سردار براء بن معرور ہے اور یہ کعب بن مالک، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات نہیں بھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جو شاعر ہے، وہ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اب سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس سفر میں نکلا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت دی ہوئی ہے، میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کعبہ کی عمارت کو پشت پر نہیں رکھوں گا، بلکہ میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا، لیکن میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا،یہاں تک کہ میرے نفس میں تردّد پیدا ہو گیا۔ اے اللہ کے رسول! اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو صبر کرتا تو تو قبلے پر ہی تھا۔ پس سیدنا براء نے فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ اختیار کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ سیدنا براء کے گھر والے تو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرتے دم تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، لیکن یہ دعوی درست نہیں ہے، ہم اس کے اہل کی بہ نسبت اس کو زیادہ جانتے ہیں، پھر ہم حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایام تشریق کے وسط میں عقبہ کے مقام پر ملنے کا وعدہ کیا، پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آ گئی، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، اُدھر ہمارے ساتھ ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے، ہم اپنی قوم کے مشرک افراد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو چھپانا چاہتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو جابر! تم سرداروں اور اشراف میں سے ایک سردار اور شریف ہو، لیکن جس دین پر تم ہو، ہم اس سے بے رغبت ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کل آگ کا ایندھن بن جاؤ، پھر میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے وعدے کی خبر دی، پس وہ بھی مسلمان ہو گئے اور ہمارے ساتھ عقبہ میں شریک ہوئے، بلکہ ان کا نقیب بھی بنایا گیا، پس ہم اس رات کو اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائش گاہوں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی رہائش گاہوں سے نکل پڑے اور چھپتے ہوئے قطا پرندے کی طرح سرکنے لگے، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے، ہم کل ستر مرد تھے اور ہمارے ساتھ دو عورتیں تھیں، ایک خاتون ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا اور دوسری خاتون ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی تھیں، ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، ہم لوگ گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرنے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، وہ اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے، البتہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا معاملہ دیکھیں اور اعتماد حاصل کر لیں، جب وہاں بیٹھ گئے تو سب سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بات کی اور کہا: اے خزرج کی جماعت! بیشک تم جانتے ہو کہ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہم میں سے ہیں، ہم نے اپنی قوم سے ان کی حفاظت کی ہوئی ہے، یہاں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنے قوم میں عزت کے ساتھ اور اپنے شہر میں قوت کے ساتھ ہیں۔ عرب لوگ انصاریوں کے اس قبیلے کو خزرج کہتے تھے، ہم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ بات کریں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی ذات کے لیے اور اپنے ربّ کے لیے جو معاہدے لینے ہیں، وہ لے لیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی، قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت کیا، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، ان کو اسلام کی رغبت دلائی اور فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے مجھے تحفظ فراہم کرو گے، جس سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کی حفاظت کرتے ہو۔ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! ہم آپ کو اس چیز سے بچائیں گے، جس سے اپنی خواتین کو بچاتے ہیں، پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، ہم لڑائیوں والے اور اسلحہ والے تھے، یہ چیز ہم کو نسل در نسل ورثے میںملی تھی، ابھی تک سیدنا براء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھے کہ بیچ میں بنو عبد الاشہل کے حلیف سیدنا ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارے اور یہودیوں کے مابین معاہدے ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم ان کو توڑ دینے والے ہیں، لیکن کیایہ ممکن ہے کہ جب ہم یہ سب کچھ کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف واپس آ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: نہیں، بلکہ اب تو جہاں تمہارا خون طلب کیا جائے گا، وہاں میرا خون بھی طلب کیا جائے گا اور جہاں تمہارے خون کو رائیگاں قرار دیا جائے گا، وہاں میرے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا جائے گا، اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جن سے تم لڑو گے، میں بھی ان سے لڑوں گا اور جن سے تم صلح کرو گے، میں بھی ان سے صلح کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اپنے بارہ نقیب میری طرف نکالو، جو اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں گے۔ پس انھوں نے بارہ نقیب منتخب کیے، نو خزرج سے تھے اور تین اوس سے، معبد بن کعب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: پہلا شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے، پھر باقی لوگ پے در پے بیعت کرنے لگے، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر لی تو گھاٹی کی چوٹی سے شیطان بہت بلند آواز میں بولا، میں نے ایسی اونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی، اور اس نے کہا: اے ان رہائش گاہوں والو! کیا تمہیں مذمَّم کی فکر ہے، بے دین لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے اس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن شیطان نے محمد نہیں کہا، بلکہ مذمّم کہا، یہ آواز سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا اَزَبّ شیطان ہے، یہ ابن اَزْیَب ہے، سن اے اللہ کے دشمن! خبردار! اللہ کی قسم ہے، میں تیرے لیے ضرور ضرور فارغ ہونے والا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ سیدنا عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم کل اپنی تلواریں لے کر اہلِ مِنٰی پر حملہ کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابھی تک مجھے اس چیز کا حکم نہیں دیا گیا۔ پس ہم لوٹ آئے اور اپنے اپنے مقام پر سو گئے، جب صبح ہوئی تو سردارانِ قریش ہمارے پاس ہماری رہائش گاہوں میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت! ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ تم ہمارے اس صاحب کے پاس گئے ہو اور اب اس کو ہمارے درمیان سے نکالنا چاہتے ہو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے پر اس کی بیعت کر رہے ہو، اللہ کی قسم! ہر عرب کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ ہمارے اور تمہارے ما بینلڑائی بھڑک اٹھے، اب بتاؤ کہ کیا معاملہ ایسے ہی ہے؟ ہماری قوم کے مشرک لوگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ان کے لیے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ اس قسم کی کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، بلکہ ہمیں تو ایسے معاملے کا علم ہی نہیں ہے، وہ لوگ سچ بول رہے تھے، کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہم (ستر افراد) رات کو کیا کر کے آئے ہیں، البتہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ لوگ اٹھ پڑے، ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی بھی تھے، (یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) انھوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی ایک بات کہی ہے، گویا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں بھی لوگوں کے منفی جواب میں شریک ہو جاؤں، ہم نے کہا: اے ابو جابر! کیا آپ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے بھیاس قریشی نوجوان کے جوتوں کی طرح جوتے ہوں، جبکہ آپ ہمارے سردار ہیں؟ جب حارث نے یہ بات سنی تو اس نے وہ جوتے اتار دیئے اور ان کو میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم! تو ضرور ضرور ان کو پہنے گا، اس نے کہا: تو نے نوجوان کو ناراض کر دیا ہے، اب یہ جوتے اس کو واپس کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میںیہ واپس نہیں کروں گا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہٹھیک ہیں، اگر یہ فال سچی ہے تو میں اس سے بطورِ سلب لوں گا۔ یہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی عقبہ کے بارے میں اور جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا تھا، اس کے بارے میں حدیث ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نقیب سے مراد قبیلے کا ذمہ دار سردار ہے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10606
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث قوي، أخرجه ابن حبان: 7011، والحاكم: 3/ 441، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15891»
حدیث نمبر: 10607
عَنْ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَقَالَ لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِيلُ الْخُطْبَةَ فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ فَقَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ قَالُوا فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ قَالَ لَكُمُ الْجَنَّةُ قَالُوا فَلَكَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10607
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرسل صحيح، عامر الشعبي لم يدرك النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، قال العجلي: مرسل الشعبي صحيح، لايكاديرسل الا صحيحا، أخرجه البيھقي في الدلائل : 2/ 450 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17206»
حدیث نمبر: 10608
(مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوُ هَذَا قَالَ وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے اور وہ ابو مسعود عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یثرب میں دین کی تعلیم اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور کئی لوگ مسلمان ہو گئے، ۱۳؁نبوتکےموسمحجمیںیثرب سے بہت سے مسلمان اور مشرکین حج کے لیے آئے، مسلمانوں نے طے کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے اور خوف و ہراس کے عالم میں نہیں چھوڑیں گے، چنانچہ انھوں نے درپردہ رابطہ کیا اور ایام تشریق کے درمیانے روز، رات کے وقت جمرۂ عقبہ کے پاس گھاٹی میں اجتماع منعقد کرنے پر اتفاق کیا، مقررہ دن یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ اپنے ڈیروں میں سو گئے اور جب رات کا پہلا تہائی گزر چکا تو چپکے چپکے ایک دو دو آدمی نکل کر عقبہ کے پاس پہنچ گئے، یہ کل تہتر آدمی تھے، باسٹھ خزرج کے اور گیارہ اوس کے، ان کے ساتھ یہ دو عورتیں بھی تھیں: سیدہ نسیبہ بنت کعب اور سیدہ اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہما۔ پھر اس مجلس میں جو امور طے پائے، ان کا بیان اسی باب میں کیا جا چکا ہے۔
عقبہ کی اس دوسری بیعت کے بعد عام مسلمانوں نے مدینے کے لیے ہجرت شروع کر دی، جبکہ بعض صحابہ اس سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مسلمانوں کا دار الہجرت دکھلایا جا چکا تھا، جس کی علامتوں کا مصداق یثرب بن رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10608
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17207»