کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ابراہیم خلیل علیہ السلام اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10336
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے مخلوق میں سے بہترین؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میرے باپ ابراہیم تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود افضل البشر ہیں، اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں، میدانِ حشر میں آپ ہی لوگوں کے سردار ہوں گے اور آدم علیہ السلام سمیت تمام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محض عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کو خَیْرُ الْبَرِیَّۃ کہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12939»
حدیث نمبر: 10337
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي إِبْرَاهِيمُ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ} [سورة آل عمران: 68] الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کے انبیاء میں سے دوست ہوتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست میرے باپ اور میرے ربّ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: بیشک سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔(سورۂ آل عمران: ۶۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10337
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الضحي لم يدرك ابن مسعود، أخرجه الترمذي: 2995 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3800»
حدیث نمبر: 10338
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذْ قَالَ {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [سورة البقرة: 260]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ابراہیم علیہ السلام کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں، جب انھوں نے کہا: اے میرے ربّ! تو مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے، اس نے کہا: کیا ابھی تک تو ایمان نہیں لایا، ابراہیم نے کہا: جی کیوںنہیں، (میں اس لیے سوال کر رہا ہوں تاکہ) میرا دل مطمئن ہو جائے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب ثبت کیا ہے: باب زیادۃ طمأنینۃ القلب بتظاہر الأدلۃ فیہ (ظاہر دلائل کی وجہ سے دل کے اطمینان کے زیادہ ہونے کا بیان) پھر امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہا: شک کرنے سے کیا مراد ہے، اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے، سب سے بہترین اور صحیح ترین جواب وہ ہے جو امام شافعی کے شاگرد امام ابو ابراہیم مزنی اور دوسرے کئی اہل علم نے دیا ہے، ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے: مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں ابراہیم علیہ السلام کے حق میں شک کرنا محال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانا چاہتے ہیں: اگر انبیائے کرام کو شک ہو سکتا ہوتا میں شک کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوتا، پس تم جان لو کہ میں نے شک نہیں کیا، سو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی شک نہیں کیا۔ (شرح مسلم للنووی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4537، ومسلم: 151 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8311»
حدیث نمبر: 10339
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ثُمَّ قَرَأَ {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ} [سورة الأنبياء: 104]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اس حالت میں اکٹھا کیا جائے گا کہ وہ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: جیسے ہم نے پہلی تخلیق کی ابتدا کی، ایسے ہی ہم اسے دوبارہ لوٹائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10339
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3349، 3447 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1950»
حدیث نمبر: 10340
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ مَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رحمن کے خلیل ابراہیم رضی اللہ عنہ نے اسی سال کی عمر میں تیشے کے ساتھ ختنہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10340
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8264»
حدیث نمبر: 10341
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ شَارِبَهُ وَكَانَ أَبُوكُمْ إِبْرَاهِيمُ مِنْ قَبْلِهِ يَقُصُّ شَارِبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مونچھیں کاٹتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام اپنی مونچھیں کاٹتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10341
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماك بن حرب حسن الحديث الا ان في روايته عن عكرمة، فان فيھا اضطرابا، أخرجه الترمذي: 2760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2738»