کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
حدیث نمبر: 7067
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَدَّتِهِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَقَدْ كَانَتْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اخْتَضِبِي تَتْرُكُ إِحْدَاكُنَّ الْخِضَابَ حَتَّى تَكُونَ يَدُهَا كَيَدِ الرَّجُلِ قَالَتْ فَمَا تَرَكَتِ الْخِضَابَ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كَانَتْ لَتَخْتَضِبُ وَإِنَّهَا لِابْنَةُ ثَمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہاتھوں کو رنگا کرو، تم ہاتھ کو رنگنا چھوڑ دیتی ہو،یہاں تک کہ وہ مرد کے ہاتھ کی طرح لگنے لگتا ہے۔ اس فرمان کے بعد اس خاتون نے ہاتھوں کو رنگنا نہ چھوڑا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی سے جا ملی، وہ اسی (۸۰) سال کی عمر میں بھی ہاتھوں کو رنگتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7067
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لعنعنة ابن اسحاق، وابنِ ضمرة بن سعيد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16767»
حدیث نمبر: 7068
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَدَّتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے پردے کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتاب پکڑانے کے لیے اپنا ہاتھ لمبا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: میں یہ نہیں جانتا کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جی یہ عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہوتی تو مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں کا رنگ بدل دیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7068
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4166، والنسائي: 8/ 142 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26788»
حدیث نمبر: 7069
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيْسًا وَإِنَّهُ أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کی شادی ہے اور چیچک کی بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں، کیا میں اس کوبال لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے بال ملانے والی اور جو ملانے کا مطالبہ کرے، دونوں پر لعنت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7069
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5941، ومسلم: 2122 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27457»
حدیث نمبر: 7070
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ فِي شَعْرِهَا مِنْ شَعْرِ غَيْرِهَا فَإِنَّمَا تُدْخِلُهُ زُورًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نے فرمایا: جو عورت اپنے بالوں کے ساتھ دوسری عورت کے بال ملاتی ہے، تو وہ جھوٹ اور باطل کے طور پر ہی ان کو داخل کرتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 792 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17051»
حدیث نمبر: 7071
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرے کے بال نوچنے والی، دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے والی اورگوندنے والی خواتین پر لعنت کرتے تھے، یہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل ڈالنے والیاں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عورت کے لیے زینت کے بہت سے اسباب جائز ہیں، مثلا: مہندی،زعفران اور خلوق جیسی خوشبوئیں، جن کا رنگ زیادہ ہے اور خوشبو کم،کریم اور پاؤڈر وغیرہ، جن کی خوشبو تیز نہ ہو اور میک اپ کا دوسرا ساز و سامان، رنگین ملبوسات اور خوبصورت جوتے، سونا، ریشم۔ لیکن اس زمانے کی اپ ٹو ڈیٹ خواتین نے ان جائز اسباب پر اکتفا نہ کیا اور زیب و زینت اختیار کرنے کے ایسے ذریعے اختیار کر لیے، جو شریعت میں واضح طور پر حرام ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے لعنت بھی ہوتی ہے، مثلا: پلکنگ، تھریڈنگ، اپر لپس (upper lips)، عدسہ، آرٹی فیشلپلکیں، مصنوعی ناخن اور بال، بازوؤں اور ٹانگوں سے بال صاف کرنا، تل بھرنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب امور سے اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7071
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3956»