کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان اوقات کا بیان جن میں رخصتی مستحب ہے
حدیث نمبر: 7066
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوال میں مجھ سے نکاح کیا اور شوال میں ہی میری رخصتی ہوئی،بتلاؤ تو سہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ مقبول اور شرف والی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ کی رخصتی شوال میں ہوئی تھی، وہ اس سنت کا لحاظ کر کے کوشش کرتی تھیں کہ خواتین کو شوال میں ہی رخصت کیا جائے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اس مہینے کی میاں بیوی کے حق میں کوئی برکت ہوتی ہے۔
دورِ جاہلیت میں لوگ شوال کے مہینے کو اس کے معنی کی وجہ سے منحوس قرار دیتے تھے اور اس میں شادی و تعمیر وغیرہ کو مناسب خیال نہ کرتے تھے، حالانکہ یہ صرف توہّم ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، مہینے کا نام اس کے دنوں پر کوئی اثر نہیں کرتا، اسلام ایسے توہّمات کے خلاف ہے اور ان کی بنا پر معمولات میں رکاوٹ کو بد عقیدگی سمجھتا ہے۔ افسوس! آج کل مسلمان محرم کے بارے میں بھی ایسے ہی تصورات رکھنے لگ گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان موانع النكاح / حدیث: 7066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26235»