کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
حدیث نمبر: 4793
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ {فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ} [الغاشية: 21-22]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہہ دیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیتیں پڑھیں: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ} … پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ۔تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4793
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 21 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14259»
حدیث نمبر: 4794
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4794
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 2504، والنسائي: 6/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12271»
حدیث نمبر: 4795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل پڑو۔
وضاحت:
فوائد: … فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ختم ہو گیا، کیونکہ مکہ مکرمہ خود دار الاسلام بن گیا، البتہ کسی بھی دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کا حکم باقی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4795
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2783، 2825، و مسلم: ص 1488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3335»
حدیث نمبر: 4796
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجِهَادُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَذُرْوَةُ سَنَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: ((الصَّلَاۃُ عُمُوْدُ الاِسْلَامِ، وَالْجِھَادُ ذِرْوَۃُ سَنَامِہِ۔‘)) … نماز اسلام کا ستون ہے اور جہاد اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4796
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، عطية بن قيس لم يسمع من معاذ، وابو بكر بن عبد الله ضعيف، وقد اخطا في متنه وصوابه الصلاة عمود الاسلام، والجھاد ذروة سنامه۔ ، أخرجه البزار: 2651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22397»
حدیث نمبر: 4797
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّجُلُ يَحْمِلُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَهُوَ مِمَّنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ قَالَ لَا لَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ} [النساء: 84] إِنَّمَا ذَاكَ فِي النَّفَقَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک آدمی مشرکوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، کیا یہ وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں جہاد کریں، آپ کو مکلّف نہیں ٹھہرایا جائے گا، مگر اپنے نفس کا۔ یہ تو مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے مراد جہاد میں اور دوسرے امورِ خیر میں خرچ نہ کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} … اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۂ: ۱۹۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «سبب نزول الآية صحيح من حديث حذيفة، أخرجه الحاكم: 2/ 275 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18669»
حدیث نمبر: 4798
عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ أَتْيَةً فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ أَوْ قَالَ ضَخْمُ الشَّفَتَيْنِ وَالْأَنْفِ إِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِلَاحٌ فَسَأَلُوهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا بِلَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عمرو بن مرداس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں شام میں آیا اور وہاں موٹے ہونٹوں اور موٹی ناک والا آدمی دیکھا، اس کے سامنے اسلحہ پڑا ہوا تھا، پس انھوں نے اس سے سوال کیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! یہ اسلحہ لے لو اور اس کو درست کرو اور اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4798
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عمرو بن مرداس، وأبي الورد بن ثمامة، أخرجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24399»
حدیث نمبر: 4799
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ قَالَ لَا جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ هُوَ لَكُنَّ جِهَادٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4799
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 1520، 2784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24926»
حدیث نمبر: 4800
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4800
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 74، وعبد الرزاق: 9278، والطبراني في الاوسط : 8330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23096»