کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي وَأَنَا أَقْسِمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو، پس بیشک میں ابو القاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … تقسیم سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اور فقہ کی تعلیم دیتے ہیں، باقی فقہ میں کسی کا مرتبہ زیادہ ہونا اور کسی کا کم ہونا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تقسیم کا یہ معنی درج ذیل روایت کی روشنی میں کیا گیا ہے:
حدیث نمبر: 4751
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے یوں آواز دی: اے ابو القاسم! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میری مراد آپ نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔
حدیث نمبر: 4752
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کا لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریوں نے اچھا کیا ہے، میرا نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔
حدیث نمبر: 4753
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی کا بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے اس سے کہا: ہم تیری کنیت ابو القاسم نہیں رکھیں گے اور اس طرح تیری آنکھ کو ٹھنڈا نہیں کریں گے، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔
حدیث نمبر: 4754
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِي وَفِي لَفْظٍ بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو، میں ابو القاسم ہوں۔
حدیث نمبر: 4755
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي وَمَنِ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے نام پر نام رکھا، وہ میری کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … فوائد: … بہتر یہ ہے کہ سابقہ احادیث کے عام حکم کا لحاظ کر کے ان احادیث کے جواز پر عمل نہ کیا جائے، ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی اجازت دی ہو، لیکن پھر حدیث نمبر (۴۷۵۱) کے واقعہ کے بعد عموم کے ساتھ ابو القاسم کنیت سے منع کر دیا ہو، حدیث نمبر (۴۷۵۸) سے بھی اس قسم کا اشارہ ملتا ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات کے بعد اس کنیت کی اجازت دے رہے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 4756
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 4757
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَظَرَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عَبْدِ الْحَمِيدِ أَوِ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ يَا مُحَمَّدُ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ وَجَعَلَ يَسُبُّهُ قَالَ فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا ابْنَ زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي قَالَ أَلَا أَرَى مُحَمَّدًا يُسَبُّ بِكَ لَا وَاللَّهِ لَا تُدْعَى مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَيًّا فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ لِيُغَيِّرَ أَهْلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعَةٌ وَسَيِّدُهُمْ وَأَكْبَرُهُمْ مُحَمَّدٌ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ إِنْ سَمَّانِي مُحَمَّدًا يَعْنِي إِلَّا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا لَا سَبِيلَ لِي إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبد الحمید یا ابن عبد الحمید کی طرف دیکھا، اس کا نام محمد تھا، ایک آدمی اس کو گالی دے رہا تھا اور یوں کہہ رہا تھا: او محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ یوں کرے اور اس طرح کرے اور اس طرح کرے، امیر المؤمنین نے اس وقت کہا: اے ابن زید! ذرا میرے قریب ہو جاؤ، کیا میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، نہیں، اللہ کی قسم ہے جب تک تم زندہ رہو گے ، تم کو محمد نہیں کہا جائے گا ، پھر انھوں نے نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا ، پھر امیر المومنین نے بنو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ان میں سے جن کے نام محمد ہیں وہ اس نام کو تبدیل کر دیں ، ایسے کل سات افراد تھے ، بلکہ اس کے سردار اور بڑے کا نام بھی محمد تھا ، ان میں سے سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ میرا نام تبدیل نہ کریں کیونکہ میرا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : چلے جاؤ ، جس آدمی کا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ، اس کے بارے میں مجھے کوئی اختیار نہیں ہے ۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں لوگوں کو اپنا نام رکھنے کی تو اجازت دی تھی، البتہ کنیت کی اجازت نہیں دی تھی، اس کی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام تھا۔