کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: حسین نام رکھنے کی رغبت دلانا اور بعض فرشتوں کے ناموں کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن تم کو تمہارے ناموں اور تمہارے باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارا جائے گا، اس لیے اپنے اچھے نام رکھا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات درست ہے کہ اچھے نام کا انتخاب کرنا چاہیے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اسْمُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدُ اللَّهِ وَاسْمُ مِيكَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عُبَيْدُ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن عمرو بن عطا کہتے ہیں: علی بن حسین رحمہ اللہ نے مجھے کہا: جبریل علیہ السلام کانام عبد اللہ اور میکائیل علیہ السلام کا نام عبید اللہ ہے۔