کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زکوۃ کے فرائض پر مشتمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي بْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا، قَالَ فَلَقَدْ هَلَكَ عُمَرُ يَوْمَ هَلَكَ وَإِنَّ ذَلِكَ لَمَقْرُونٌ بِوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ كَانَ فِيهَا فِي الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْإِبِلَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونَ، (وَفِي الْغَنَمِ) مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَكَذَلِكَ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، لَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ مِنَ الْغَنَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ٔٔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے، لیکن ابھی تک ان کو عاملین کی طرف نہیں بھیجاتھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر عمال کی طرف بھجوائی اور ان کی وفات تک اس پر عمل ہوتا رہا، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی تحریر اپنے عمال کو بھجوائی اور اس پر عمل ہوتا رہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وہ تحریر ان کی وصیت کے ساتھ موجود تھی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس میں یہ تفصیل لکھی ہوئی تھی: چوبیس اونٹوں تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری بطور زکوۃ مقرر ہے، جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ایک بنت ِ مخاض فرض ہے، اگر بنت ِ مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیا جا سکتا ہے، زکوۃ کی یہ مقدار پینتیس اونٹوں تک ہے، جب چھتیس ہو جائیں تو پینتالیس اونٹوں تک بنت ِ لبون واجب ہے، پھر چھیالیس سے ساٹھ تک حِقّہ ہے، اس سے بڑھ جائیں تو پچھتر تک جذعہ ہے، جب اونٹ اس مقدار سے بھی بڑھ جائیں تو نوے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون ہوں گی۔ اس کے بعد اکانوے سے ایک سو بیس تک تین حقّے واجب ہیں اور جب اونٹ اس سے بھی زائد ہوں تو ہر پچاس پرایک حقّہ اور ہر چالیس میں ایک بنت ِ لبون بطور زکوۃ فرض ہے۔ رہا مسئلہ بکریوں کی زکوۃ کا تو (۴۰) سے (۱۲۰) بکریوں تک ایک بکری اور (۱۲۱) سے (۲۰۰)تک دو بکریاں بطورِ زکوۃ فرض ہیں، اگر وہ اس سے زیادہ ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد (۴۰۰) ہو جائیں تو چار بکریاں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بکریاں ہوں تو ہر (۱۰۰) میں ایک بکری۔زکوۃ سے بچنے کے لیے ایک ریوڑ کو الگ الگ یا الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ اگر ایک سے زائد شرکاء کی بکریوں میں سے زکوۃ واجب ہو گئی تو وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔ زکوۃ میں کوئی بوڑھی یا عیب والی بکری نہ لی جائے۔
وضاحت:
فوائد: ساری حدیث واضح احکام پر مشتمل ہے، استعمال ہونے والی اصطلاحات کے معانی یہ ہیں:
حدیث نمبر: 3379
عَنْ طَارِقٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ، الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي، وَعَلَيْهَا سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طارق کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی کہا:ہمارے پاس کوئی مخصوص وحی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی الگ تحریرنہیں ہے، ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس صحیفہ والی ہدایات دی گئی ہیں، جو صحیفہ میری تلوار کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک تلوار تھی اور اس کا زیور لوہے کا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر تھا۔
حدیث نمبر: 3380
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ وَمَا هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ، حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) طارق کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ہمارے پاس کوئی علیحدہ تحریر نہیں ہے جو ہم تم لوگوں پر پڑھیں، ما سوائے قرآن اور اس صحیفہ کے، اس وقت وہ صحیفہ ان کی تلوار کے میان میں تھا، جس کا زیور لوہے کا تھا،میں نے یہ صحیفہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر کیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: یہ وہی صحیفہ تھا، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُمْ: أَنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلَا يُعْطِهِ، فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ، فَفِي كُلِّ خَمْسٍ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةَ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا، إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُتَصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَاقِ رُبْعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان (بحرین والوں) کی طرف یہ تحریر لکھ کر بھیجی: یہ زکوۃ کا وہ نصاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، جس مسلمان سے اس کے مطابق زکوۃ وصول کی جائے، وہ ادا کرے اور جس سے اس سے زائد کا مطالبہ کیا جائے، وہ نہ دے۔ (تفصیل یہ ہے:) اونٹوں کی تعداد (۲۵) سے کم ہو تو ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ہے۔ (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض یا ابن لبون ، (۳۶) سے (۴۵) تک بنت ِ لبون،(۴۶) سے (۶۰) تک نر کی جفتی کے قابل حِقّہ،(۶۱) سے (۶۵) تک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱)سے (۱۲۰) تک دو عدد حقّے ہیں۔ جب اونٹوں کی تعداد اس سے بڑھ جائے تو ہر (۴۰) پر ایک بنت ِ لبون اور ہر (۵۰) پر ایک حقّہ زکوۃ ہو گی اور اگر زکوۃ کے اس سلسلے میں اونٹوں کی عمریں مختلف ہو جائیں، یعنی جس نے زکوۃ میں جذعہ ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو، البتہ حِقّہ ہو تو اس سے وہی لیا جائے گا اور اس کے ساتھ اگر میسر ہو تو دو بکریاں دے دے یا بیس درہم، اسی طرح اگر کسی نے زکوۃ میں حقّہ ادا کرنا ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے گی، لیکن زکوۃ وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاں زکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
وضاحت:
وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاںزکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔