کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: ((إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُواكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کے ہاں جا رہے ہو، تم سب سے پہلے ان کویہ دعوت دینا کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو ان کے مالدار وں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی تسلیم کر لیں تو (زکوۃ لیتے وقت) ان کے قیمتی مال سے بچنا اورمظلوم کی بددعا سے بھی بچ کر رہنا، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ترتیب سے داعی کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور اہم امور سے پہلے زیادہ اہم کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر نفلی نماز ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ۱۰ ہجری میں یمن کی طرف بھیجا تھا، جبکہ اس وقت وتر ایک معروف نماز تھی۔
حدیث نمبر: 3365
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ))، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ، وَارْتَدَّ مَنْ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ قِتَالَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَهُمْ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ! لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الزَّكَاةِ وَاللَّهِ! لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کا اعتراف نہ کر لیں، جب وہ اس کا اعتراف کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور مرتدّ ہونے والے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کا ارادہ کیا۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو لوگ نماز پڑھتے ہیں، آپ ان سے کیسے قتال کریں گے؟ لیکن سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور قتال کروں گا جو زکوۃ ادا کرنے سے انکاری ہیں۔اللہ کی قسم ہے،اگر ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرض کی ہوئی ایک بکری بھی نہ دی تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے (زکوۃ کے اِن انکاریوں سے) لڑنے کے لیے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔
حدیث نمبر: 3366
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: لَمَّا ارْتَدَّ أَهْلُ الرِّدَّةِ فِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ يَا أَبَا بَكْرٍ! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ))، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ! لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ! مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن عبداللہ کہتے ہیں: جب سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں لوگ مرتدّ ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! بھلا آپ ان لوگوں سے قتال کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا تھا کہ مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ نہ کہہ دیں، اور جب وہ یہ کلمہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھ لیں گے تو اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے، مگر حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ لیکن سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو لوگ نماز اور زکوۃ میں فرق کریں گے، میں ان سے ضرور لڑوں گا، بے شک زکوۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم ہے، اگر ان لوگوں نے ایک بکری روک لی، جو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں اس وجہ سے ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے فوراً پتہ چل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ قتال کے لیے کھولا ہے، پس میں نے یہ جان لیا کہ یہی بات برحق ہے۔
وضاحت:
فوائد: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مختلف انداز میں بعض لوگ مرتدّ ہو گئے تھے، کسی نے دوبارہ بتوں کی پوجا اختیار کر لی، کوئی مسیلمہ کذاب سے جا ملا اور بعض لوگ ایمان پر تو برقرار تھے، لیکن انھوں نے بغاوت اور لالچ کرتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صرف ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘‘ کے الفاظ کے مصداق کو سامنے رکھ کر مانعینِ زکوۃ سے لڑائی نہ کرنے کامشورہ دیا، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اس کلمہ کے مفہوم کو سامنے رکھ کر نماز اور زکوۃ کو اسی کا تقاضا قرار دیا اور یہی معنی درست تھا، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَیُقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوْا الزَّکَاۃَ، ثُمَّ قَدْ حُرِّمَ عَلَیَّ دِمَاؤُھُمْ وَاَمْوَالُھُمْ، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ یعنی: ’’مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ (ان امور کو سرانجام نہ دیں): (۱)یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسے کے رسول ہیں، (۲) نماز قائم کریں اور (۳) زکوۃ ادا کریں۔ تب مجھ پر ان کے خون اور مال حرام ہوں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔‘‘ (مسند احمد: ۸۵۴۴، ۲/ ۳۴۵)
حدیث نمبر: 3367
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِكَنْزِهِ فَيُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُكْوَى بِهَا جَبِينُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِإِبِلِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ وَبِغَنَمِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَالْخَيْلُ؟ قَالَ: ((الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ عَلَى رَجُلٍ وَزْرٌ (فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ) الَّذِي يَتَّخِذُهَا وَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَهُوَ لَهُ أَجْرٌ، وَإِنِ اسْتَنَّتْ مِنْهُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاتِهَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَهُ نَهْرٌ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا، (وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ) فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا تَعَفُّفًا وَتَجَمُّلًا وَتَكَرُّمًا وَلَا يَنْسَى حَقَّهَا فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا (وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وَزْرٌ) فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَرِيَاءَ النَّاسِ وَبَذَخًا عَلَيْهِمْ))، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: ((مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزانے کامالک، جو اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، اسے قیامت کے دن خزانے سمیت لایا جائے گا اور اس کے خزانے کو تختیوں کی شکل دے کر جہنم کی آگ پر خوب گرم کیا جائے گا، پھر اس سے اس کی پیشانی، پہلو اور پیٹھ کو داغا جاتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ ہو جائے گا، تمہارے حساب کے مطابق یہ پچاس ہزار سال کے برابر دن ہو گا، اس کے بعد وہ بندہ اپنا راستہ دیکھے گا کہ وہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ اسی طرح جو کوئی اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو اسے قیامت کے دن اونٹوں سمیت لایا جائے گا، جبکہ وہ اونٹ بھی خوب موٹے تازے ہوں گے، پھر اس مالک کو ایک وسیع چٹیل میدان میں لٹا کر اونٹ اس کے اوپر سے گزارے جائیں گے، جب آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلے اونٹ کو دوبارہ لایا جائے گا۔اس کے ساتھ یہ سلوک اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ نہ ہو جائے،وہ دن تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس کا ہو گا، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ اسی طرح جو آدمی بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو اسے بھی قیامت کے دن بکریوں سمیت لایا جائے گا، جبکہ وہ بکریاں خوب موٹی تازی ہوں گی۔ اس آدمی کو وسیع چٹیل میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ بکریاں اپنے کھروں سے اسے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری بکری گزر جائے گی تو پہلی بکری کو دوبارہ لایا جائے گا اور اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتارہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے کرنے سے فارغ ہوجائے، وہ دن تمہارے اعداد و شمار کے مطابق پچاس ہزار سالوں کے برابر ہوگا، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی میں خیر وبرکت رکھ دی گئی ہے، (دراصل) گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں: ایک (اپنے مالک کے لیے) اجرو ثواب، ایک پردہ پوشی اور ایک گناہ کا سبب ہوتا ہے، جو اجر وثواب کا ذریعہ ہوتا ہے، وہ وہ گھوڑا ہوتا ہے کہ جس کو اس کا مالک جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے پالتا ہے، ایساگھوڑا اپنے پیٹ میں جو کچھ ڈالے گا، وہ اس کے مالک کے لیے اجر ہو گا، جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلے گا تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کو اجر ملے گا اور اگر اس کے سامنے نہر آجاتی اور وہ اس سے پانی پی لیتا ہے تو ہر قطرہ، جو وہ اپنے پیٹ میں داخل کرتا ہے، اس کے عوض اس کو اجر ملے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیشاب اور لید کی وجہ سے بھی اجر کا ذکر کیا۔ جو گھوڑا آدمی کے لیے پردہ پوشی کا ذریعہ ہے، یہ وہ گھوڑا ہے کہ جس کو پالنے کا سبب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت کسی سے مانگنا نہ پڑے اور اس سے اسے زینت وجمال اور عزت حاصل ہو، ہاں یہ بات ہے کہ ایسا مالک اپنے گھوڑے کی پشت اور پیٹ کے حق سے غافل نہ ہو، رہا اس گھوڑے کا مسئلہ جو اپنے مالک کے لیے گناہ کا سبب بنتا ہے تو وہ وہ ہوتاہے کہ جس کا مالک فخر، تکبر اور لوگوں کے سامنے ریاکاری کرنے کے لیے اسے پالتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! گدھوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں کیا گیا، البتہ ایک آیت ہے جو بے مثال اور (ہر خیر کو) شامل ہے، یعنی: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ} (سورۂ زلزال:۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے گا تو وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔
وضاحت:
فوائد: حدیث ِ مبارکہ کے شروع میں مذکورہ ’’خزانے‘‘ سے مراد وہ مال ہے کہ جو نصابِ زکوۃ تک پہنچ چکا ہو، لیکن اس کی زکوۃ ادا نہ کی جاتی ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3368
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسًا فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا أَكْثَرُ عَامِرِيٍّ مَالًا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رُدُّوهُ إِلَيَّ فَرُدُّوهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ نُبِّئْتُ أَنَّكَ ذُو مَالٍ كَثِيرٍ؟ فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَاللَّهِ! إِنَّ لِي مِائَةَ حُمْرٍ وَمِائَةَ أُدْمٍ، حَتَّى عَدَّ مِنْ أَلْوَانِ الْإِبِلِ وَأَفْنَانِ الرَّقِيقِ وَرِبَاطِ الْخَيْلِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيَّاكَ وَأَخْفَافَ الْإِبِلِ وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، يُرَدِّدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى جَعَلَ لَوْنُ الْعَامِرِيِّ يَتَغَيَّرُ أَوْ يَتَلَوَّنُ، فَقَالَ: مَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ!؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا (فَذَكَرَ مِثْلَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) وَإِذَا كَانَتْ لَهُ بَقَرٌ لَا يُفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ وَأَكْبَرِهَا وَأَسْمَنِهَا وَأَسَرِّهَا، ثُمَّ يُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ فِيهِ كُلُّ ذَاتِ ظِلْفٍ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ كُلُّ ذَاتٍ قَرْنٍ بِقَرْنِهَا، إِذَا جَاوَزَتْهُ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَرَى سَبِيلَهُ، وَإِذَا كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ، (فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ ثُمَّ قَالَ) فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ!؟ قَالَ: أَنْ تُعْطَى الْكَرِيمَةَ وَتُمْنَحَ الْغَزِيرَةَ وَتُفْقَرَ الظَّهْرَ، وَتُسْقَى اللَّبَنَ وَتُطْرَقَ الْفَحْلَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوعمر غدانی کہتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو عامر بن صعصعہ کے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس کے بارے میں ان کو بتایا گیا کہ یہ اپنے قبیلہ کا امیر ترین آدمی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میرے پاس بلاؤ، لوگوں نے اسے بلایا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کافی مالدار ہو؟ عامری نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میرے پاس ایک سو گدھے اور ایک سو سفید رنگ کے اونٹ ہیں، پھر اس نے مختلف قسم کے اونٹوں، غلاموں اور گھوڑوں کا ذکر کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تم ذرا اونٹوں کے پاؤں اور بکریوں کے کھروں سے بچ کر رہنا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی بار یہ بات دوہرائی کہ اس عامری کا رنگ بدلنا شروع ہو گیا، بالآخر اس نے کہا: اے ابوہریرہ! بھلا آپ کی اس بات کا مطلب کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے، … … (پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی) اورجس کے پاس گائیں ہوں اور وہ تنگدستی و خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن خوب ہوشیار بن کر اور خوب موٹی تازی ہو کر آئیں گی، پھر ان کے لیے ایک چٹیل میدان تشکیل دیا جائے گا (اس مالک کو وہاں لٹا دیا جائے گا)، وہ گائیں اسے اپنے کھروں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی، جب آخری گائے گزر جائے گی تو پہلی کو دوبارہ لایا جائے گا، (یہ سزا اس وقت تک ہوتی رہے گی) جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے، جبکہ اس دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہو گی، پھر دیکھا جائے گا کہ اس کا راستہ (جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف)۔ اور جس کے پاس بکریاں ہوں، … … (گزشتہ حدیث کی مانند حدیث ذکر کی)عامری نے کہا:اے ابوہریرہ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اونٹوں کا حق یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرتے وقت بہترین اونٹ ادا کرو، دودھ والا جانور کسی کو عاریۃً دے دیا کرو، ضرورت مند کو سواری کے لیے اونٹ دیا کرو، اسی طرح دودھ بھی لوگوں کو پلایا کرو اور جفتی کے لیے بھی عاریۃً نر اونٹ دے دیا کرو۔
وضاحت:
فوائد:اکثر و بیشتر نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ زکوۃ، نصاب تک پہنچ جانے والے مال کا حق ہے، لیکن اس حدیث کے آخر میں مندرج سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چلتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے، کئی دوسری نصوص سے بھی یہی مسئلہ سمجھ آتا ہے، مثلا:
حدیث نمبر: 3369
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ ثُمَّ قَالَ) وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جِيءَ بِكَنْزِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ، فَإِذَا رَآهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ أَغْنَى مِنْكَ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَقَضَمَهَا قَضْمَ الْفَحْلِ))، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ))، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ، قَالَ أَبُو الزَّبِيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اونٹوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، … (اونٹ، گائے اور بکری کی زکوۃ کے بارے میں جو تفصیل گزر چکی ہے، وہی یہاں ذکر کی، پھر فرمایا:) جو خزانے کا مالک ہو اور اس میں سے اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کا خزانہ ایک گنجے سانپ کی صورت میں منہ کھولے ہوئے آئے گا اور اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، مالک اسے دیکھ کربھاگنا شروع کر دے گا، لیکن اس کا رب اسے آواز دے گا: یہ تیرا وہی خزانہ ہے جسے تو نے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا، اسے اب لے لے ، میں تیری بہ نسبت اس سے زیادہ غنی ہوں ۔ جب وہ آدمی دیکھے گا کہ اس کے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا اور وہ سانپ اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا شروع کر دے گا ۔‘‘ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا :’’پانی کے پاس اس کو دوہنا ، اس کا ڈول عاریۃ دینا ، جفتی کے لیے نر اونٹ کو عاریۃ دینا ، دودھ والی عاریۃ دے دینا اور اللہ کی راہ میں اونٹوں پر سوار کرنا ۔‘‘
حدیث نمبر: 3370
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ))، ثُمَّ تَلَى هَذِهِ الْآيَةَ: {وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الْخَ الْآيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس آدمی کو مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کے لیے اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی،اس (کی آنکھوں) پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اپنے مالک کے جبڑوں کو پکڑ کر کہے گامیں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ بَلْ ھُوَ شَرٌّلَّھُمْ سُیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ} (سورۂ آل عمران۱۸۰) یعنی اور جو لوگ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے بخل کرتے ہیں وہ اسے اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں، وہ تو ان کے حق میں بہت ہی برا ہے، وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اسی کو اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو وہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
حدیث نمبر: 3371
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذَا زَبِيبَتَيْنِ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، وَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ إِصْبَعَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا خزانہ قیامت کے دن دو سیاہ نقطوں والے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، پھر وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گااور وہ اس سے بچنے کی کوشش کرے گا، لیکن وہ سانپ اس کا پیچھا کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اپنی انگلی اس کے منہ میں ڈال دے گا۔
حدیث نمبر: 3372
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ:) مَا مِنْ مَوْلَى يَأْتِي مَوْلَى لَهُ فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلٍ عِنْدَهُ فَيَمْنَعُهُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ شُجَاعًا يَنْهَشُهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی اپنے رشتہ دار کے پاس آکر اس سے ایسی چیز کا سوال کرتا ہے جو اس کی ضرورت سے زائد ہو، لیکن وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس مالک کے لیے ایک سانپ بلایا جائے گا جو اپنی زبان کو ہلاتا ہوگا، یہ (سانپ) اسی کا زائد مال ہو گا، جو اس نے مانگنے والے کو نہیں دیا تھا۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جو رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار سے زائد چیز کا سوال کرتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو اللہ تعالیٰ ایسے مال کو اس کے لیے سانپ بنا دے گا، جو قیامت کے دن فیصلہ مکمل ہونے تک اسے ڈستا رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: لیکن صورتحال یہ ہے کہ مالدار لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ غریب رشتہ داروں سے دور ہو جائیں، اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ان کو زکوۃ دینے سے بھی گریز کرتے ہیں، جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے رشتہ دار محتاج کی ضرورت پوری کر دی جائے۔
حدیث نمبر: 3373
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَمْنَعُ عَبْدٌ زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جُعِلَ شُجَاعٌ أَقْرَعُ يَتْبَعُهُ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ))، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ مِصْدَاقَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ}، قَالَ سُفْيَانُ، مَرَّةً يُطَوَّقُهُ فِي عُنُقِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کے مال کو گنجے سانپ کی شکل دی جائے گی اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا، یہ اس سے بچنے کے لیے بھاگے گا، لیکن وہ سانپ یہ کہتے ہوئے اس کا پیچھا کرتا رہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کتاب اللہ سے اس حدیث کی مصداق آیت تلاوت کی: {سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔} (سورۂ آل عمران، ۱۸۰) یعنی: یہ لوگ جو بخل کرتے رہے، عنقریب قیامت کے دن ان کی گردنوں میں اس کا طوق پہنا دیا جائے گا۔ امام سفیان نے ایک دفعہ کہا: ان کی گردن میں طوق پہنایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: بخل سے مراد زکوۃ کی عدم ادائیگی ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
حدیث نمبر: 3374
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُمَثَّلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَالَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، ثُمَّ يَلْزَمُهُ يُطَوِّقُهُ يَقُولُ أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مال کو دو نقطوں والے گنجے سانپ کی شکل دے دے گا، وہ سانپ اس آدمی کے ساتھ ساتھ رہے گا، بلکہ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔
حدیث نمبر: 3375
عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا أُرِيدُ الْعَطَاءَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ مِنْ حَلَقِ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ أَسْمَالٌ لَهُ قَدْ لَفَّ ثَوْبًا عَلَى رَأْسِهِ قَالَ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي الْجِبَاهِ وَبِكَيٍّ فِي الظُّهُورِ وَبِكَيٍّ فِي الْجُنُوبِ، ثُمَّ تَنَحَّى إِلَى سَارِيَةٍ فَصَلَّى خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)، فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تُنَادِي بِهِ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي كُنْتُ آخُذُ الْعَطَاءَ مِنْ عُمَرَ فَمَا تَرَى؟ قَالَ: خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً وَيُوشِكُ أَنْ يَكُونَ دَيْنًا، فَإِذَا كَانَ دَيْنًا فَارْفُضْهُ (وَفِي لَفْظٍ) فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
احنف بن قیس کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عطیہ لینا چاہتا تھا۔ میں قریش کے ایک حلقہ میں جا بیٹھا، پراگندہ لباس والا ایک آدمی وہاں آیا، اس نے سر پر ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا، وہ یوں کہنے لگا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ بشارت دے دو کہ ان کی پیشانی، پشت اور پہلو آگ سے داغے جائیں گے۔ پھر وہ علیحدہ ہوا اور ایک ستون کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا: یہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ پس میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: جی میں نے تو صرف وہ بات کی ہے جو ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ میں نے کہا: اللہ تم پر رحمت کرے، میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے عطیہ لیا کرتا تھا، اس کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لے لیا کرو، آج کل تو اس کی شکل تعاون کی ہے، لیکن قریب ہے کہ یہ قرضہ بن جائے گا، جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو ترک کر دینا۔ (ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:) جب ایسا مال تمہارے دین کی قیمت بن جائے تو اسے ترک کر دینا۔
وضاحت:
فوائد: مرفوع حدیث کا مفہوم تو پہلے بھی گزر چکا ہے، حدیث کے آخر میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جس صورت سے منع کیا، وہ اب شادی اور خوشی کے دوسرے موقعوں پر بدرجۂ اتم پیدا ہو چکی ہے، اگر ایک آدمی کسی کی شادی، بچے کی پیدائش، منگنی، امتحان میں کامیابی، گھر کی تعمیر اور حج وعمرہ کی ادائیگی کے موقعوں پر اگر کسی کو نقدی اور کسی اور چیز کی صورت میں تحفہ دے رہا ہے تو اسے آئندہ اس سے بہتر یا اس جیسے تحفے کی امید بھی ہوتی ہے اور لینے والا بھی اسی نیت سے ریکارڈ تیار کر رہا ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ بڑے لوگوں نے محبت اور تعاون کے لیے ان چیزوں کی بنیاد رکھی ہو، لیکن اب ان کا نتیجہ نفرت اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں رہا، بندۂ غریب نے خود اچھے بھلے سنجیدہ اور مذہبی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان کے بیٹے کی شادی کے موقع پر پانچ سو نیوندرا دیا تھا، لیکن انھوں نے تو سو روپے پر ٹرکا دیا ہے۔ اللہ کی قسم ہے کہ آج اچھی خاصی آمدنی والے شادی کی دعوت ملنے پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ انہیں دولہا کو ہار بھی ڈالنا پڑے گا، نیوندرا بھی دینا پڑے گا، دلہن کو دیکھنے کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے گا، علی ہذا القیاس۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب لین دین کی بنیاد یہ چیز بن جائے تو اس وقت عطیوں کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے، بڑی حکمت و دانائی والے تھے وہ لوگ، جو کہ حقیقی محبّتوں کے علم بردار تھے۔
حدیث نمبر: 3376
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: ((هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ!))، فَأَخَذَنِي غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ حَدَثَ فِيَّ! قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: ((الْأَكْثَرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ حَتَّى تَطَؤَهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحَهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ تَعُودُ أُوْلَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا))، وَفِي رِوَايَةٍ: ((كُلَّمَا نَفَدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: ربِّ کعبہ کی قسم! وہی بہت زیادہ خسارے والے ہیں، ربِّ کعبہ کی قسم! وہی خسارے میں ہیں۔ مجھے شدید غم نے دبوچ لیا اور اور میں ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا، ( میں دل میں ہی کہنے لگا کہ) کیا میرے اندر کوئی خرابی آگئی ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کچھ فرما رہے ہیں، اس لیے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، کون لوگ خسارے میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے، ماسوائے ان لوگوں کے جو (صدقہ کرتے ہوئے) مال کو اِدھر اُدھر لٹا دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں، جو شخص بکریاں، اونٹ اور گائے وغیرہ اس حالت میں چھوڑ کر مرتا ہے کہ وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ جانور خوب موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں، کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، آخری جانور کے گزرنے کے بعد پھر پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو لوٹا لیا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: مال کو ادھر ادھر لٹانے سے مراد کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ زیادہ مال والے خسارے میں ہیں، اس فرمانِ عالی شان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور غرباء و فقراء کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ اور صحابۂ کرام اور سلف صالحین کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرناضروری ہے، بہرحال سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے عام طور پر ان حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3377
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ قَالَ: ((لَا يَجِيئَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ہُلب طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ پر مشتمل ایک حدیث بیان، اس میں یہ فرمایا تھا کہ: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کے ساتھ اس کی بکری ہو، جو ممیا رہی ہو۔
وضاحت:
فوائد: زکوۃ ایک اہم رکنِ اسلام اور نماز کی طرح کا فریضہ ہے، اس کی عدم ادائیگی پر کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بعض کا ذکر اس باب میں ہو چکا ہے۔ آخری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے جانوروں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو ایسا جانور قیامت والے دن اس کے ساتھ ہو گا اور اپنی مخصوص آواز نکال رہا ہو گا۔