کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع¤زکوۃ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3356
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} {وَيَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ:۱۰۴) اور اللہ سود کو ختم کرنا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ:۲۸۶)
وضاحت:
فوائد: … پہلی آیت کے الفاظ کسی راوی کی بھول چوک کا نتیجہ ہیں، قرآن مجید میں یہ آیت اس طرح ہے: {اَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} اور سورۂ شوری کے الفاظ یوں ہیں: {وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاتِ}۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھول چوک سے پاک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح أخرجه الترمذي: 662 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10090»
حدیث نمبر: 3357
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبْلِ الْعَظِيمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن حلال اور پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف بھی صرف یہی حلال کمائی چڑھتی ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اس (صدقہ کو) اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی گھوڑی، یا گائے کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: صدقہ و خیرات کسی بھی عبادت گزار کی عبادات کا اہم جزو ہے اور اس کے بغیر زندگی نامکمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں مختلف انداز میں صدقہ کی عظیم مثالیں پیش کیں، صحابہ کرام eنے بھی اس پہلو کو تشنہ نہ رہنے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1014، وعلقه البخاري باثر الحديثين: 1410، 7430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9413»
حدیث نمبر: 3358
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26503»
حدیث نمبر: 3359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ))، قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو جُبّے ہوں اور ان کے ہاتھ ہنسلی کی ہڈیوں تک باندھ دیئے گئے ہوں، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس حد تک کھل کر وسیع ہو جاتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نشان مٹانے لگ جاتا ہے، لیکن جب بخیل آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبہ کا ایک ایک حلقہ سکڑ کر اس کے اوپر بری طرح تنگ ہو جاتا ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پھر وہ اپنے جبہ کو کھلا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر وہ وسیع نہیں ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: جس طرح نمازی کے لیے نماز پڑھنا آسان اور بے نمازی کے لیے یہی عمل بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح صدقہ کرنا سخی کے لیے انتہائی آسان اور بخیل کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص کو اپنے کمائے ہوئے مال سے محبت ہوتی ہے اور ایسا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دینا دل گردے کا کام ہے، لیکن نجات کے لیے ضروری بھی، کسی بخیل شخص کو سخاوت پر آمادہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تھوڑی مقدار میں اس سے صدقہ و خیرات کروایا جائے، آہستہ آہستہ راہیں کھلتی چلی جائیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1443، 2917، ومسلم: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9045»
حدیث نمبر: 3360
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى، وَلَا أَبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں، وہ جن و انس کے علاوہ روئے زمین کی ہر چیز کو سناتے ہوئے اعلان کرتے ہیں: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آجاؤ، بے شک کم مقدار اور کفایت کرنے والی چیز اس سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر غافل کر دے، اسی طرح جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت بھی دو فرشتے اس کے دونوں پہلوؤں میں بھیجے جاتے ہیں اور جن وانس کے علاوہ باقی اہل زمین کو سناتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں: اے اللہ! اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3360
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه الطيالسي: 979، وابن حبان: 686، 3329، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2912، والحاكم: 2/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:21721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22064»
حدیث نمبر: 3361
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ! اَنْفِقْ أَنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلَأَى سَحَّائُ، لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! تو (میری راہ میں) خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا اور ہمیشہ عطا کرنے والا ہے اور رات اور دن میں (خرچ کی جانے والی) کوئی چیز اس میں کمی نہیں کر سکتی۔
وضاحت:
فوائد: یعنی اللہ تعالیٰ کے خزانے لامتناہی ہیں اور کسی قسم کی سخاوت اور عطا سے ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، حالانکہ پوری مخلوق ان سے مستفید ہو رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3361
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7296»
حدیث نمبر: 3362
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَانْتَهَى إِلَى الْحَرَّةِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَذْنَابِ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَبِعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ بِالِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاءُهُ، يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک جنگل میں تھا کہ اس نے بادل میں یہ آواز سنی: (بادل!) فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر۔ وہ بادل ایک طرف کو چل پڑا اور جا کر ایک پختہ زمین پر برسا، جب یہ آدمی وہاں پہنچا تو وہ کیا دیکھتا ہے کہ سارا پانی جمع ہو کر مختلف نالیوں سے ہوتا ہوا ایک بڑے نالے کی صورت بن گیا۔ یہ آدمی پانی کے ساتھ ساتھ چل پڑا، آگے جا کر دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کَسّی سے پودوں کو پانی لگا رہا ہے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ باغ والے نے کہا: اللہ کے بندے! تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل کا یہ پانی ہے، میں نے اس میں آواز سنی تھی، تمہارا نام لے کر کہا گیا کہ جا کر اس کے باغ کو سیراب کر۔ لہٰذا اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کونسا کوئی خاص کام کرتے ہیں؟ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت آپ کو حاصل رہتی ہے؟ باغ والے نے کہا: آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنو! میں اس باغ کی کل آمدنی میں سے ایک تہائی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے اہل وعیال کھا لیتے ہیں اور ایک تہائی اسی باغ پر خرچ کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: ایک روایت میں ہے: وَاَجْعَلُ ثُلَثَہٗ فِیْ الْمَسَاکِیْنِ وَالسَّائِلِیْنَ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ یعنی: ’’میں اس پیداوار کا تیسرا حصہ مسکینوں، سائلوںاور مسافروں پر خرچ کر دیتا ہوں۔‘‘ اس حدیث سے ایسے لوگوں پر صدقہ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3362
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7928»
حدیث نمبر: 3363
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ، فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ وَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ، فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْلِلْ لِي، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا))، قَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو تمیم کا ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مال دار ہوں اور میرا خاندان بھی بڑا ہے، بچے بھی ہیں اور میرے ہاں مہمان بھی بکثرت آتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیں کہ میں مال کیسے خرچ کروں یا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کیا کر، یہ پاکیزہ عمل تجھے پاک کر دے گا، اسی طرح اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کر اور تجھے سائل، پڑوسی اور مسکین کے حق کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان باتوں کو میرے لیے ذرا اختصار کے ساتھ واضح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کر اور فضول خرچی سے بچ۔ یہ سن کر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے لیے کافی ہے کہ جب میں آپ کے قاصد کو زکوۃ ادا کردوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے ہاں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو میرے قاصد کو زکوۃ ادا کردے گا تو تو اس سے بری ہو جائے گا اور تجھے اس کا اجر مل جا ئے گا، ہاں جو اس کو (ناجائز انداز میں) تبدیل کر دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہی ہو گا۔
وضاحت:
فوائد:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی خلیفۂ وقت یا اس کے قاصد کو زکوۃ دے دے تو وہ اس فرض سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اگر خلافِ توقع ایسا ذمہ دار خیانت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، زکوۃ دینے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔ لیکن یہ اصول اس وقت ہے جب قاصد وغیرہ کی امانت کے بارے میں حسنِ ظن ہو، وگرنہ استطاعت کے مطابق مالدار کو چاہیے کہ وہ اپنی زکوۃ کی رقم خود مستحق لوگوں تک پہنچا دے، اس کی مزید وضاحت باب ’’زکوۃ کے عامل کو زکوۃ دے دینے سے مالک بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے، خواہ وہ نمائندہ اس میں جائز تصرف کرے‘‘ میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3363
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن قيل في رواية سعيد بن ابي ھلال عن انس: انھا مرسلة أخرجه الحاكم: 2/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12421»