حدیث نمبر: 2703
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ))، وَقَالَ بِيَدِهِ قُلْنَا يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے، جو مسلمان بھی اس میں نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس گھڑی کے قلیل ہونے کی نشاندہی کی۔
حدیث نمبر: 2704
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهِيَ بَعْدَ الْعَصْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے اور یہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2705
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ) قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي صَلَاةٍ سَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ، قَالَ وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَٰذِهِ السَّاعَةِ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَأَتَيْتُهُ (فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: ((إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ))، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی … ، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔
حدیث نمبر: 2706
(وَعَنْهُ أَيْضًا بِسَنَدِهِ وَلَفْظِهِ وَفِيهِ:) ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْهَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَبَضَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَفِيهَا تَقُومُ السَّاعَةُ، فَهِيَ آخِرُ سَاعَةٍ، وَقَالَ سُرَيْجٌ فَهِيَ آخَرُ سَاعَتِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((فِي صَلَاةٍ)) وَلَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ فِي صَلَاةٍ))؟ قُلْتُ: بَلَى هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔
حدیث نمبر: 2707
عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، إِنَّا نَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا سَأَلَهُ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْضَ سَاعَةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُهُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ، فَقَالَ: بَلَى، إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِي صَلَاةٍ إِذَا صَلَّى ثُمَّ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، کہ ہم اللہ کی کتاب (تورات) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں، جبکہ وہ نماز میں ہو، اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اشارہ کیا کہ اس گھڑی کا وقت تھوڑا سا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا (واقعی اس کا وقت مختصر ہوتا ہے)۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ گھڑی کا وقت کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، بیشک جب مسلمان آدمی نماز پڑھ کر اپنے جائے نماز میں نماز ہی کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2708
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ كَعْبًا فَكَانَ يُحَدِّثُنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَأُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ))، فَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، هِيَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ كَعْبٌ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هِيَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَةً فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ كَعْبٌ: أَتَدْرِي أَيَّ يَوْمٍ هُوَ؟ قُلْتُ: وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ؟ قَالَ: فِيهَا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهَا تَقُومُ السَّاعَةُ وَالْخَلَائِقُ فِيهَا مُصِيخَةٌ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ خَشْيَةَ الْقِيَامَةِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ كَعْبٍ، فَقَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ إِلَى قَوْلِي، فَقَالَ: أَتَدْرِي أَيَّ سَاعَةٍ هِيَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَهَالَكْتُ عَلَيْهِ أَخْبِرْنِي أَخْبِرْنِي، فَقَالَ: هِيَ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: كَيْفَ وَلَا صَلَاةَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2709
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، هُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! فَأَخْبِرْنِي بِهَا، قَالَ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي))، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ))؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ كَذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میں نے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔
حدیث نمبر: 2710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي)) وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّي))؟ فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ ذَٰكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک کے وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔