کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: فصل: جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهَا خُلِقَ آدَمُ وَفِيهَا قُبِضَ، وَفِيهَا النَّفْخَةُ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهَا فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ))، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تُعْرَضُ عَلَيْكَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أُرِمْتَ يَعْنِي وَقَدْ بَلِيتَ؟ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں افضل ترین جمعہ کا دن ہے،اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور فوت کیا گیا،اور اسی میں نَفْخَہ اورہوگا ، لہٰذا تم مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا یہ درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا، جبکہ آپ تو (مٹی میں) فنا ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کی رات چمک دار اور اس کا دن روشن ہوتا ہے۔