حدیث نمبر: 2695
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي لُبَابَةَ الْبَدْرِيِّ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَفِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ، وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِيَّاهُ، مَالَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا رِيَاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا هُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابولبابہ بدری بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دنوں کا سردار اور عظیم ترین ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں سے بھی عظیم ہے، اس میں پانچ خصائل ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا،(۲) اسی میں ان کو زمین پر اتارا، (۳) اور اسی میں ان کو فوت کیا، (۴)اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا بھی سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، جب تک حرام کا سوال نہ کرے، اور (۵)اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، یہی وجہ ہے کہ مقرب فرشتے، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر، یہ تمام جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں (کہ کہیں اسی جمعہ کو قیامت برپا نہ ہو جائے)۔
حدیث نمبر: 2696
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ؟ قَالَ: ((فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ، … )) فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: جمعہ کے دن کے بار ے میں بتلائیں کہ اس میں کون کون سی خوبیاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانچ خوبیاں ہیں، … ۔ گزشتہ روایت کی طرح۔
حدیث نمبر: 2697
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَخْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ وَفِيهِ تُوبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينَ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ))، قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ، ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں پہاڑ کی طرف نکلا اور کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھا، انھوں نے مجھے تورات کی باتیں بیان کیں اور میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کیں، میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین دن کہ جس میں سورج طلوع ہوتا ہے، وہ جمعہ کا دن ہے، اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (زمین پر) اتارے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور وہ اسی دن فوت ہوئے اور اسی میں قیامت قائم ہوگئی، اِس دن کو صبح سے طلوع آفتاب تک ہر جانور قیامت کے ڈر سے کان لگائے ہوئے ہوتا ہے، جن وانس کے علاوہ۔ اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں اللہ تعالیٰ سے جو دعا کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتاہے۔ کعب نے کہا: یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ پھر کعب نے تورات پڑھی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے (یہ واقعی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:پھر میری ملاقات سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس اور اس میں ہونے والی جمعہ کے دن کے بارے میں گفتگو بیان کی اور کہا کہ کعب نے کہا یہ گھڑی سال میں ایک مرتبہ ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا کہ کعب نے غلط بات کی ہے۔ میں نے کہا: جی پھر اس نے تورات پڑھی اور کہا کہ واقعی یہ ہر جمعہ کو ہوتی ہے۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: کعب نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 2698
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ القَبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی جمعہ کے دن یا رات کو فوت ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو فتنۂ قبر سے محفوظ رکھے گا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’امام البانی k نے کہا: اس حدیث کے سیّدنا انس اور سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا وغیرہ سے مروی شواہد موجود ہیں، اس لیے یہ حدیث تمام طرق کی بنا پر حسن یا صحیح ہے۔‘‘ (احکام الجنائز: ص۳۵)أخرجہ الترمذی: ۱۰۷۴ (انظر: ۶۵۸۲)
حدیث نمبر: 2699
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيهَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جمعہ کے دن کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس کو جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ) اس میں تیرے باپ آدم علیہ السلام کی مٹی بنائی گئی اور اسی میں صَعْقَہ اور بَعْثَہ ہوگا اور اسی میں بَطْشَہ ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اس کی دعا قبول کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 2700
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! لَا تَخْتَصِّ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ دُونَ اللَّيَالِي وَلَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ دُونَ الْأَيَّامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابودرداء! دوسری راتوں میں سے جمعہ کی رات کو قیام کے لیے اور دوسرے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کر۔