کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 1237
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ إِثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنکھ لگ جانے یا کوئی تکلیف ہونے کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو بارہ رکعت نماز ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1237
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 746 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25284»
حدیث نمبر: 1238
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ فَلْيُوْتِرْ إِذَا ذَكَرَهُ أَوِ اسْتَيْقَظَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نمازِ وتر سے سو جائے یا اس کو بھول جائے تو جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو، وتر ادا کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1431، والترمذي: 465، وابن ماجه: 1188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11284»
حدیث نمبر: 1239
عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ فَرَغَ مِنَ الصُّبْحِ فَرَكَعَ رَكْعَتَي الْفَجْرِ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟)) فَأَخْبَرَهُ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قیس بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ وہ نماز فجر کے لیے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں ہی پایا، جبکہ انھوں نے فجر کی دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور جب نمازِ فجر سے فارغ ہوئے تو فجر کی سنتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے؟ پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1239
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث مرسل، قال ابوداود في سننه (1268): وروي عبد ربه ويحييٰ ابنا سعيد ھذا الحديث مرسلا، وقوله ھنا (عبد الله بن سعيد) خطأ، والصواب (عبد ربه بن سعيد) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23162»
حدیث نمبر: 1240
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر سے پہلے والی دو رکعتیں فوت ہو گئی تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد ادا کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27369»