کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
حدیث نمبر: 975
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ سَلَمَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: سُهَيْلَةَ) بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَالصُّبْحِ بِغُسْلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ سلمہ یا سہیلہ بنت سہیلؓ استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور اس بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے ساتھ غسل کرنے کا حکم دیا، لیکن جب یہ عمل ان پر گراں گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک غسل کے ساتھ ظہر و عصر کو اور ایک غسل کے ساتھ مغرب و عشا کو ادا کر لیں اور نماز فجر کیلئے الگ سے غسل کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 975
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث ضعيف، وھذا اسناد اختلف فيه علي عبد الرحمن بن القاسم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25391»
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الحيض والإستحاضة والنفاس / حدیث: 976
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 294 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25391 ترقیم بيت الأفكار الدولية: بدون رقم في النص المقدم»