کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تُصَلِّي الْمُسْتَحَاضَةُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ خاتون نماز پڑھے گی، اگرچہ اس کا خون چٹائی پر بہتا رہے۔
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں ایک خاتون مستحاضہ تھی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا تھا، جبکہ وہ زرد اور سرخ رنگ کا خون دیکھتی رہتی تھی، بسا اوقات تو ہم اس کے نیچے ایک تھال رکھتی تھیں، جبکہ وہ نماز پڑھ رہی ہوتی تھی۔
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: قَالَ: ((إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ)) أَوْ قَالَ: ((عُرُوقٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے بارے میں فرمایا جو طہر کے بعد (ایسا خون) دیکھتی رہتی ہے، جو اسے شک میں ڈالتا ہے: یہ تو کسی رگ کا مسئلہ ہے۔
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِهِنَّ الْوَرَسَ مِنَ الْكَلَفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں بچہ جنم دینے کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر جھائیوں کی وجہ سے ورس بوٹی خوب ملتی تھیں۔