الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الزِينَةِ لِلنِّسَاءِ وَمَا يُكْرَهُ لَهُنَّ باب: اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
حدیث نمبر: 7071
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرے کے بال نوچنے والی، دانتوں میں فاصلہ پیدا کرنے والی اورگوندنے والی خواتین پر لعنت کرتے تھے، یہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل ڈالنے والیاں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عورت کے لیے زینت کے بہت سے اسباب جائز ہیں، مثلا: مہندی،زعفران اور خلوق جیسی خوشبوئیں، جن کا رنگ زیادہ ہے اور خوشبو کم،کریم اور پاؤڈر وغیرہ، جن کی خوشبو تیز نہ ہو اور میک اپ کا دوسرا ساز و سامان، رنگین ملبوسات اور خوبصورت جوتے، سونا، ریشم۔ لیکن اس زمانے کی اپ ٹو ڈیٹ خواتین نے ان جائز اسباب پر اکتفا نہ کیا اور زیب و زینت اختیار کرنے کے ایسے ذریعے اختیار کر لیے، جو شریعت میں واضح طور پر حرام ہیں، بلکہ ان کی وجہ سے لعنت بھی ہوتی ہے، مثلا: پلکنگ، تھریڈنگ، اپر لپس (upper lips)، عدسہ، آرٹی فیشلپلکیں، مصنوعی ناخن اور بال، بازوؤں اور ٹانگوں سے بال صاف کرنا، تل بھرنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب امور سے اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والی پر لعنت کی ہے۔