الفتح الربانی
بيان موانع النكاح— نکاح کے موانع کا بیان
بَابَ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الزِينَةِ لِلنِّسَاءِ وَمَا يُكْرَهُ لَهُنَّ باب: اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
حدیث نمبر: 7069
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيْسًا وَإِنَّهُ أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیٹی کی شادی ہے اور چیچک کی بیماری کی وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں، کیا میں اس کوبال لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے بال ملانے والی اور جو ملانے کا مطالبہ کرے، دونوں پر لعنت کی ہے۔