الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
وُجُوبِ الْجِهَادِ وَالْحَثَّ عَلَيْهِ باب: جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
حدیث نمبر: 4799
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ قَالَ لَا جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ هُوَ لَكُنَّ جِهَادٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)