الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4752
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتِ الْأَنْصَارُ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کا لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریوں نے اچھا کیا ہے، میرا نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔