الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4751
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے کہ ایک آدمی نے یوں آواز دی: اے ابو القاسم! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میری مراد آپ نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔