الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي وَأَنَا أَقْسِمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام اور میری کنیت کو جمع نہ کرو، پس بیشک میں ابو القاسم ہوں، اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … تقسیم سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اور فقہ کی تعلیم دیتے ہیں، باقی فقہ میں کسی کا مرتبہ زیادہ ہونا اور کسی کا کم ہونا، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تقسیم کا یہ معنی درج ذیل روایت کی روشنی میں کیا گیا ہے: