الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا لَا يُضَحَّى بِهِ لِعَيْبِهِ وَلَا يُكْرَهُ وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزٍ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانَ أَنَّهُ سَأَلَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأَضَاحِيِّ مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا كَرِهَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي الْقَرْنِ نَقْصٌ أَوْ قَالَ فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ أَوْ فِي السِّنِّ نَقْصٌ قَالَ مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ۔ عبید بن فیروز نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے قربانیوں کے بارے میں سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس قسم کے جانوروں سے منع فرمایا اور ان کو ناپسند کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار قسم کے جانور قربانی میں کفایت نہیں کرتے: (۱) بھینگا، جس کا بھینگا پن واضح ہو۔ (۲) بیماری، جس کی بیماری واضح ہو۔ (۳) لنگڑا، جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور (۴) ایسا لاغر جانور کہ جس کی ہڈی میں گودانہ ہو۔ میں نے کہا: میں سینگ یا کان یا دانت میں بھی نقص کو ناپسند کرتا ہوں، انھوں نے کہا: جس چیز کو تو ناپسند کرتا ہے، اس کو چھوڑ دے، لیکن اس کو دوسروں کے لیے حرام نہ قرار دے۔