حدیث نمبر: 4676
عَنْ يَزِيدَ ذِي مِصْرٍ قَالَ أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَمَا تَقُولُ قَالَ أَلَا جِئْتَنِي بِهَا قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهَا وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ فَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ صِمَاخُهَا وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي اسْتُؤْصِلَ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تُبْخَقُ عَيْنُهَا وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا وَعَجْزًا وَالْكَسْرَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ یزید ذی مصر کہتے ہیں: میں سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو الولید! میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے نکلا تھا، لیکن کوئی ایسا نہیں جو مجھے پسند آیا ہو، البتہ سامنے والے دانت ٹوٹا ہوا ایک جانور تھا، اس کے بارے میں تم کیا کہو گے؟ انھوں نے کہا: تو اس کو میرے پاس لے کر کیوں نہیں آیا؟ میں نے کہا: سبحان اللہ، تمہاری طرف سے جائز ہے اور میرے طرف سے جائز نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، کیونکہ تو شک کرتا ہے اور میں شک نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان جانوروں سے منع کیا ہے:جس کا کان اتنا کاٹ دیا جائے کہ اس کا سوراخ ظاہر ہو جائے، جس کا سارا کان کاٹ دیا جائے،بھینگی آنکھ والا، جس کی آنکھ کانی ہو گئی ہو، وہ جو کمزوری اور عجز کی وجہ سے بکریوں کے پیچھے نہ چل سکتی ہو اور وہ کہ جس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ ہو۔ (آگے ان الفاظ کے معانی بیان کیے گئے ہیں، جو ترجمہ میں واضح کر دیئے گئے ہیں)۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں چار عیوب کا بیان ہے، واضح پن کی قید لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی درجے کا عیب قابل برداشت ہے، سمجھ والے لوگ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ فلاں عیب واضح ہے یا معمولی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4676
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2803 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17802»