الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا لَا يُضَحَّى بِهِ لِعَيْبِهِ وَلَا يُكْرَهُ وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِعَوْرَاءَ وَلَا مُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَا جَدْعَاءَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ أَذَكَرَ عَضْبَاءَ قَالَ لَا قُلْتُ مَا الْمُقَابَلَةُ قَالَ يُقْطَعُ طَرَفُ الْأُذُنِ قُلْتُ مَا الْمُدَابَرَةُ قَالَ يُقْطَعُ مُؤَخَّرُ الْأُذُنِ قَالَ تُخْرَقُ أُذُنُهَا لِلسِّمَةِ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں اور ان جانوروں کی قربانی نہ کریں: بھینگا، سامنے سے کٹے ہوئے کان والا، پیچھے سے کٹے ہوئے کان والا، لمبائی میں پھٹے ہوئے کان والا، جس کے کان میں گول سوراخ ہو اور جس کا ناک کٹا ہوا ہو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے ابو اسحاق سے کہا: کیا انھوں نے عَضْبَائ کاذکر کیاتھا؟ انھوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: مُقَابَلۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کے کان کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو، میں نے کہا: مُدَابَرۃ کون سا جانور ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جس کا کان پیچھے سے کٹا ہوا ہو، پھر انھوں نے کہا: علامت کے طور پر جانور کا کان کاٹا جاتا تھا۔