الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4602
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو حاجی کو ملے تو اس پر سلام کہہ اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے یہ مطالبہ کر کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے بخشش کی دعا کرے، کیونکہ اس وقت وہ بخشا ہوا ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال نیک لوگوں سے دعا کروانا مشروع عمل ہے۔