حدیث نمبر: 4603
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنَ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحلیفہ مقام پر نمازِ ظہر ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کوہان کے دائیں پہلو پر علامت لگائی اور پھر اس سے خون صاف کر دیا اور دو دو جوتوں کے قلادے ڈالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت بیداء مقام پر کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اونٹنی کی کوہان کی دائیں جانب پر کسی برچھی یا چھری وغیرہ سے زخم لگایا جائے اور پھر خون کو صاف کر لیا جائے، یہ جانور کے ہدی ہونے کی علامت ہو گی، اگر ایسا جانور گم ہو جائے تو دوسرے لوگ خود ہی اس کو حاجیوں تک پہنچا دیتے ہیں، چور وغیرہ بھی اس کو چرانے سے باز رہتے ہیں اور اگر وہ دوسرے اونٹوں میں مل جائے تو اس کو پہنچان لیا جاتا ہے، یہ کام قلادے سے بھی لیا جا سکتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے بھی تھے، بہرحال اشعار ایسی علامت ہے جو زائل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4603
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1243، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2296»