الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ … وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔)