حدیث نمبر: 4599
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ … وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔)

وضاحت:
فوائد: … لشکروں سے مراد غزوۂ خندق میں جمع ہونے والے دشمنانِ اسلام کے لشکر ہیں، اور اس کو عموم پر محمول کرنا بھی ممکن ہے، یعنی اس سے مراد کفر کے لشکر ہیں، وہ جہاں بھی ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4599
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6835، ومسلم: 1344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3256»